ایران کی جانب بحری بیڑہ روانہ کیا لیکن استعمال نہ کرنا بہتر ہوگا: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگرچہ امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے، تاہم بہتر یہی ہوگا کہ اسے استعمال کرنے کی نوبت نہ آئے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکا کے کئی بڑے اور طاقتور جنگی جہاز ایران کی سمت بڑھ رہے ہیں، مگر امید ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کا خواہاں ہے، ماضی میں بھی بات چیت ہو چکی ہے اور آئندہ بھی رابطے جاری رہیں گے۔
صدر ٹرمپ نے برطانیہ کے لیے چین کے ساتھ کاروباری تعلقات کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ تجارتی تعاون برطانیہ کے لیے سنگین خدشات پیدا کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا کے لیے چین کے ساتھ کاروبار کرنا اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے، اور اتحادی ممالک کو چین کے ساتھ بڑھتے تجارتی روابط کے معاملے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
کیوبا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ان کے خیال میں کیوبا کی موجودہ حکومت زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چین کے ساتھ
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔