بھارت میں آلودگی سنگین، کرکٹ میچ کے دوران کھلاڑیوں نے ماسک پہن لیے
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
بھارت میں فضائی آلودگی کی سنگین صورتحال نے کرکٹ کے میدانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا جہاں کھلاڑیوں کو میچ کے دوران ماسک پہننے پر مجبور ہونا پڑا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق رانجی ٹرافی میں ممبئی اور دہلی کے درمیان کھیلے گئے میچ کے دوران فضائی آلودگی اس قدر زیادہ تھی کہ کئی کھلاڑی ماسک کے ساتھ میدان میں اترے۔ یہ میچ ممبئی کے باندرا کرلا کمپلیکس میں منعقد ہوا جہاں گرد و غبار اور آلودگی نے ماحول کو مزید خراب کردیا۔
میڈیا کا کہنا ہے کہ گراؤنڈ کے اطراف جاری تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث آلودگی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اسی صورتحال کے پیش نظر ممبئی کے بیٹرز سرفراز خان، مشیر خان اور ہمانشو سنگھ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر ماسک پہن کر میچ میں حصہ لیا۔
رپورٹس کے مطابق ممبئی کی فضائی کیفیت کو بھی غیر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 160 تک ریکارڈ کیا گیا۔ یہ صورتحال نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ شائقین اور منتظمین کے لیے بھی تشویش کا باعث بن گئی ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ممبئی میں آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اہم میچز، جن میں سیمی فائنل اور گروپ مقابلے شامل ہیں، بھی شیڈول ہیں، جس پر فضائی آلودگی کے اثرات سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔