لکی مروت میں پولیس مقابلے میں تین ڈاکو ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
لکی مروت میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیاں فائرنگ کے تبادلے میں تین ڈاکو ہلاک کردیے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ لکی سٹی کی حدود میں پولیس کی خفیہ اطلاع پر کارروائی کی گئی۔ پنجاب جانے والی شاہراہ پر دلوخیل پھاٹک کے قریب ڈاکوؤں سے مقابلہ ہوا۔
پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں تین ڈاکو ہلاک ہوئے۔ ہلاک ڈاکوؤں کی شناخت کلیم اللہ، خان بہادر اور عدنان کے نام سے ہوئی ہے۔
ہلاک تینوں ڈاکوؤں کا تعلق تاجہ زئی اور گنڈی خانخیل لکی مروت سے ہے۔ ہلاک ڈاکوؤں سے اسلحہ برآمد ہوا۔ ہلاک ڈاکو مسافر بس ڈکیتی سمیت متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھے۔
ڈی پی او کا کہنا تھا کہ عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں، قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔