پولیس افسران نے مجھ پر تشدد کیا او بیوی کو قتل کرنے کا اعتراف کرنے کیلئے دباؤ ڈالتے رہے: غلام مرتضیٰ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
لاہو ر(ڈیلی پاکستان آن لائن )لاہور بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون اور بچی کے شوہر نے الزاما عائد کیا ہے کہ پولیس افسران نے ان پر تشدد کیا اور بیوی کو قتل کرنے کا اعتراف کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ نے بتایا کہ جب میں بیوی اور بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کی اطلاع دینے کے لیے پولیس اسٹیشن گیا تو پولیس نے مجھے ہی حراست میں لے لیا، ایس پی بلال اور ایس ایچ او زین نے مجھ پر تشدد کیا۔
خضدار میں زلزلے کے جھٹکے، لوگ گھروں سے باہر نکل آئے
ان کا کہنا تھا میری بیوی کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں تھی اس کے ساتھ سیر کے لیے آیا تھا، میں نے بتایا کہ دونوں کو اپنی آنکھوں سے گرتے دیکھا، ایس پی اور ایس ایچ او کہتے تھے تم جھوٹ بول رہے ہو، پولیس نے میرا موبائل فون بھی لے لیا تھا، جب واقعہ ہوا ایک بیٹا والدہ کے پاس تھا۔
غلام مرتضیٰ نے الزام عائد کیا کہ ایس پی اور ایس ایچ او یہ کہتے رہے یہ کہو کہ تم نے اپنی بیوی اور بچی کو قتل کیا ہے، پولیس مجھ سے دونوں کا قتل زبردستی منوانا چاہتی تھی، پولیس نے میرے ساتھ میرے کزن تنویر کو بھی پکڑا ہوا تھا۔
عمران خان سے ملاقاتوں میں تاخیر جاری رہی تو شٹر ڈائون و پہیہ جام کی کال دی جا سکتی ہے: پی ٹی آئی
یاد رہے کہ گزشتہ روز لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں داتا دربار کے قریب ایک خاتون اور اس کی بچی سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھی تاہم ابتدائی طور پر پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے اس خبر کو غلط قرار دیتے رہے اور کہا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا تاہم تقریباً 10 گھنٹے بعد خاتون اور اس کی بچی کی لاشیں 3 کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سیوریج لائن میں
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔