اسلام آباد میں بین الاقوامی معیار کے نئے کنونشن سنٹر کی تعمیر کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
وزیراعظم کی ہدایت پر اسلام آباد میں بین الاقوامی معیار کے نئے کنونشن سنٹر کی تعمیر کے لیے مجوزہ جگہ کا معائنہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مری روڈ بھارہ کہو بائی پاس کے قریب اس منصوبے کی جگہ کا دورہ کیا اور کہا کہ یہاں ہر قسم کے غیر قانونی قبضے کو ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قابضین کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی اور کسی کو بھی رعایت یا معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔ تمام غیر قانونی تعمیرات کو فوری مسمار کیا جائے گا۔
محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد میں بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کا عزم ہے، اور اس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان میں ایس سی او سمٹ سمیت دیگر بین الاقوامی کانفرنسز کے انعقاد میں سہولت ہوگی۔
اس موقع پر چئیرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن اور دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔