سرپرست جے اے پی کا کہنا ہے کہ فلسطین کو ختم کرنے کی سازش کا پاکستان کو حصہ نہیں بننا چاہیے، فوج حماس کے خلاف استعمال نہ کیا جائے، امریکی صدر کا منصوبہ خطرناک، فلسطینی اگر امن بورڈ میں شامل نہیں اس کی کوئی اہمیت نہیں، امریکی صدر کیلئے فلسطین سلگتا انگارہ ہے، اسے مزید نہ بھڑکایا جائے، امن کے نام پر اقوام متحدہ کے متوازی ادارے کا قیام عالمی امن سے کھیلنے کے مترادف ہوگا، اسلام ٹائمز۔ جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سرپرست اور اے آر ڈی کے سابق سیکرٹری جنرل قاضی عبدالقدیر خاموش نے کہا ہے کہ بورڈ آف پیس کے نام پر اقوام متحدہ کے متوازی کسی ادارے کو بنانا عالمی امن سے کھیلنے کے مترادف ہوگی، مسئلہ نئے اداروں کا قیام نہیں، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہونے کا ہے، بورڈ آف پیس سے بظاہرکوئی اختلاف نہیں ہو سکتا، لیکن اس کے پیچھے کار فرما استعماری اور استبدادی قوتوں کا فلسطین کو ہڑپ کرنے کا ایجنڈا خوفناک ہے۔ فلسطین کو ختم کرنے کی سازش کا پاکستان کو کسی صور ت حصہ نہیں بننا چاہیے اور نہ افواج پاکستان کو فلسطین کے خلا ف استعمال کرنا چاہیے۔
 
انہوں نے کہا مشرق وسطیٰ میں امن اسی صورت قائم ہوسکتا ہے، جب فلسطینی اس کے انتظامی ڈھانچے میں شامل ہوں گے، کیونکہ متاثرہ فریق فلسطینی ہیں، جنہیں بورڈ میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ قاضی عبدالقدیر خاموش نے کہا امریکی صدر کا منصوبہ خطرناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اگر امن بورڈ میں شامل نہیں اس کی کوئی اہمیت نہیں، ہم عالمی اداروں اور امریکی صدر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فلسطین سلگتا انگارہ ہے، اسے مزید نہ بھڑکایا جائے اور اگر فلسطین کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو دنیا کا بہت زیادہ نقصان ہوگا۔
 
انہوں نے کہا کہ دنیا مزید کسی ایٹمی عالمی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔لہٰذا عقلمندی یہی ہوگی کہ فلسطین کے مسئلے کو اس انداز سے حل کیا جائے جس طرح فلسطینی چاہتے ہیں، مقبوضہ علاقے واپس کیے جائیں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور دہشت گردی کو روکا جائے اور اس کے لیے بہترین پلیٹ فارم اقوام متحدہ ہے، اقوام متحدہ کو اگر بائی پاس کر کے کوئی نیا سیٹ اپ بنانے کی کوشش کی گئی تو اس سے بھی عالمی عمل کو نقصان ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ امریکی صدر فلسطین کو کہ فلسطین نے کہا

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف