آلو کی قیمتوں میں کمی، کاشت کار پریشان: ایکڑ کی فصل کا خسارہ بڑھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
پاکستان میں آلو کی گرتی ہوئی قیمتوں نے کاشت کاروں کے لیے پریشانی کی لہر دوڑا دی ہے۔ کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ ایک ایکڑ آلو کی فصل اگانے پر تقریباً 3 لاکھ روپے لاگت آتی ہے، لیکن اب کوئی بھی 50 ہزار روپے میں اسے خریدنے کو تیار نہیں ہے۔
کاشت کاروں نے بتایا کہ پاکستان میں زراعت اب گھاٹے کا سودا بنتی جا رہی ہے اور پیداوار کی لاگت پورا کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ مڈل مین ہمیشہ منافع اپنے حصے میں لیتے تھے، لیکن اس بار آلو کی کم قیمت نے نہ صرف کاشت کاروں بلکہ مڈل مین کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ فصل میں نقصانات کی وجہ سے نئے سال میں نئی فصل لگانا بھی مشکل ہو گیا ہے، جس سے زراعت پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور کسانوں کے لیے حالات دن بہ دن مشکل تر ہو رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کاشت کاروں ا لو کی
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔