کراچی: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے لاہور میں پیش آنے والے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گٹر کے ڈھکن لگانا وزیراعلیٰ کی براہِ راست ذمہ داری نہیں ہوتی۔

حامد میر نے کہا کہ تیراہ سے کراچی، کراچی سے لاہور اور کوئٹہ تک ایک ہی طرح کے مسائل موجود ہیں، حالات اس حد تک بگاڑ دیے گئے ہیں کہ لاہور میں ماں اور بیٹی گٹر میں گر کر جاں بحق ہو گئیں، جبکہ صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر تاحال اسے جھوٹی خبر قرار دے رہے ہیں۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ لاہور میں پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، تاہم گٹر کے ڈھکن لگانا وزیراعلیٰ کی ذمہ داری نہیں بلکہ متعلقہ اداروں کی ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا فوری نوٹس لیا، ذمہ دار اداروں کے افسران کو طلب کیا اور ان کی سخت سرزنش بھی کی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں ایک خاتون اور اس کی 10 ماہ کی بیٹی گٹر میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھیں، تاہم ابتدا میں پولیس اور متعلقہ ادارے اس واقعے سے انکار کرتے رہے، یہاں تک کہ شکایت درج کرانے والے خاتون کے شوہر کو ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے