مصنوعات کی درآمدات میں اضافے کیلئے پہلی بار ٹی سی پی میں نجی شعبے سے چئیرمین کی تقرری
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
پاکستان کی غیر روایتی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کیلئے وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں پہلی بار ٹی سی پی میں نجی شعبے سے چئیرمین کی تقرری کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے برآمدات بڑھانے کیلئے ٹی سی پی کو عالمی سطح پر اجناس اور ادویات کی فروخت کا اہم کام سونپ دیا ہے۔
چیئرمین ٹی سی پی، عاصم صدیقی نے بتایا کہ ٹی سی پی دنیا بھر میں حکومتی سطح پر زرعی اجناس اور ادویات برآمد کرے گا۔ ٹی سی پی نے آئندہ پانچ برسوں میں 5ارب ڈالر کی زرعی و فارما برآمدات کا ہدف مقرر کرلیا ہے۔
وزارتِ تجارت اور وزارتِ خوراک کا سال 26ء میں 1.
چیئرمین ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان عاصم صدیقی کا کہنا تھا کہ ٹی سی پی پہلی بار ایک انٹرنیشنل ٹریڈنگ کمپنی کی طرز پر کام کرے گا۔ چینی، گندم، چاول اور یوریا کی قیمتوں کے تعین میں ٹی سی پی اب کوئی کردار ادا نہیں کرے گا۔
چینی کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے فیصلے پر غور کیا جارہا ہے۔ فلپائن کی حکومت کو لاکھوں ٹن پاکستانی چاول برآمد کرنے کا سرکاری پلان شیئر کردیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں روسی حکومت نے بھی پاکستانی اجناس کی خریداری کیلئے ٹی سی پی سے رابطہ کرلیا ہے۔ پاکستان سے اجناس اور ادویات کی برآمدات کیلئے مختلف ممالک کےساتھ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ معاہدے کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹی سی پی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک