تیراہ آپریشن: پاکستان کے دہشتگرد مخالف اقدامات کے حقائق عوام کے سامنے
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے تیرہہ میں دہشتگردوں کے خلاف باقاعدہ، شہری دوست آپریشنز کے ذریعے امن قائم کیا۔ ان اقدامات میں فوجی طاقت کے بجائے انٹیلیجنس اور نشانہ بنائے گئے حملوں پر زور دیا گیا، جس کا مقصد شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچانا اور دہشتگردوں کے مضبوط ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔
تیراہ علاقہ پاکستان کے سب سے زیادہ دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں میں سے ایک کے طور پر ابھرا، جہاں خارِج نیٹ ورک، افغان طالبان سہولت کار، اور منشیات اسمگلرز سرگرم تھے، اور یہ دہشتگرد، جرائم اور سیاسی رابطوں کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک شہری علاقوں میں چھپا ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا نے وادی تیراہ سے عارضی انخلا کی صورتحال بارے قائم مقام صدر کو آگاہ کیا
پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے کئی سالوں تک انٹیلیجنس پر مبنی آپریشنز (IBOs) کیے تاکہ دہشتگردوں کو ناکارہ بنایا جا سکے اور شہریوں کو نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔ قبائلی بزرگان نے FAK دہشتگردوں سے تین ماہ تک رابطہ کیا تاکہ وہ رضاکارانہ طور پر علاقہ خالی کریں، لیکن دہشتگردوں نے انکار کر دیا، جس سے ان کے پرتشدد اور غیرقانونی نظریات ظاہر ہوئے۔
آپریشن کے دوران تقریباً 19,000 خاندانوں کو عارضی طور پر منتقل کرنے کی نشاندہی کی گئی؛ جن میں سے 65 فیصد نے رضاکارانہ طور پر حرکت کی جبکہ 35 فیصد نے اپنی فصلوں کو ترجیح دیتے ہوئے باقی رہنے کا فیصلہ کیا۔ واضح رہے کہ کسی قسم کی فوجی زبردستی نہیں کی گئی۔
صرف 2025 میں پاکستان نے ملک بھر میں 75,175 انٹیلیجنس پر مبنی آپریشنز کیے، جن میں 2,597 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جن میں FAK کے اہم آپریٹیو بھی شامل تھے۔ وسیع نگرانی اور درست نشانہ بنانے کی صلاحیتوں نے شہری نقصانات کو کم سے کم رکھا اور قانون کے مطابق کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔
یہ بھی پڑھیں:وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی
تیرہہ آپریشن میں کوئی غیر معمولی فوجی تعیناتی یا روایتی آپریشن نہیں کیا گیا۔ تمام اقدامات انٹیلیجنس اور شہری تحفظ کی اصولوں کے مطابق کیے گئے۔ آپریشنز Bagh Joint Action Plan (BJAP) کے تحت ہوئے، جس میں دہشتگردی کے خلاف کارروائی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی، معاشی بحالی، اور متاثرہ خاندانوں کی محفوظ واپسی شامل تھی۔
پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیاں پیشہ ورانہ مہارت، ہوشیاری، اور عملی برتری کا مظاہرہ کر رہی ہیں، جس سے FAK دہشتگرد بار بار ناکارہ ہوتے ہیں اور شہری زندگی کا تحفظ یقینی بنایا جاتا ہے۔ غیر منظم صوبائی فنڈز یا سیاسی پروپیگنڈا پاکستان کی کامیابی کو نہیں مٹا سکتا۔ تیرہہ میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں قانون کے مطابق، درست اور شہری مرکز ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اپنے شہریوں کا تحفظ کرتا ہے، دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرتا ہے، اور وہ امن و استحکام بحال کرتا ہے جہاں FAK دہشتگرد خوف پھیلانے کی کوشش کرتے تھے۔ تمام حقائق کی تصدیق کی جا چکی ہے: پاکستانی سیکیورٹی فورسز انٹیلیجنس، درستگی، اور عزم کے ساتھ قانون، نظم و نسق اور شہری تحفظ کی ضمانت فراہم کرتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تیراہ آپریشن دہشتگرد وادی تیراہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تیراہ ا پریشن دہشتگرد وادی تیراہ دہشتگردوں کے اور شہری
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ