پاکستان اور چین نے سی پیک کو افغانستان تک پھیلانےکا فیصلہ کیا ہے، حکام دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: دفتر خارجہ کے حکام کے مطابق پاکستان اور چین نے سی پیک کو افغانستان تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے موجودہ حالات عارضی طور پر خراب ہیں، تاہم چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کو بریفنگ میں دفتر خارجہ کے حکام نے بتایا کہ علاقائی تعاون کا فریم ورک بھارت کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے اور سارک کا فورم بھی بھارت کی وجہ سے معطل ہے، اس لیے پاکستان دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ روابط مضبوط کر رہا ہے۔
حکام نے کہا کہ چین کو افغانستان میں دہشت گردی کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں اور پاکستان اور چین کا افغانستان کے حوالے سے مؤقف یکساں ہے۔ سی پیک کی توسیع سے بیلٹ اینڈ روڈ کے میری ٹائم کورئڈورز کو جوڑا جائے گا۔ پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ سی پیک کو افغانستان تک بڑھایا جائے گا۔
دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کسی ایک بلاک کا حصہ نہیں بنے گا بلکہ عالمی سفارت کاری میں اپنی اہمیت قائم رکھے گا۔ دہشت گردی ایک عالمی خطرہ ہے جو تمام ممالک کو متاثر کرتا ہے، اور اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ فوجی مشقیں بھی کی جاتی ہیں جن کا مقصد دہشت گرد تنظیموں کی سرحد پار نقل و حرکت کو روکنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کو افغانستان پاکستان اور دفتر خارجہ سی پیک
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔