اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان، انڈیکس میں 2,600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
ایک دن کی بھاری فروخت کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جہاں پہلے نصف تجارتی سیشن کے دوران کے ایس سی 100 انڈیکس میں 2,600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔
دوپہر 12 بجے، کے ایس ای بینچ مارک انڈیکس 184,951.80 پر تھا، جو 2,613.68 پوائنٹس یعنی 1.43 فیصد اضافے کا عکاس تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس 188 ہزار پوائنٹس کی سطح برقرار نہ رکھ سکا
اہم شعبوں میں خریداری کے رجحان دیکھنے میں آیا، جن میں کمرشل بینک، سیمنٹ، فرٹیلائزر، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں اور ریفائنریز شامل ہیں۔
Market is up at midday ????
⏳ KSE 100 is positive by +2647.
— Investify Pakistan (@investifypk) January 30, 2026
اٹک ریفائنری، حبکو، ماری انرجیز، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، پاکستان آئل فیلڈز ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل، سوئی سدرن، سوئی ناردرن، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک جیسے بڑے انڈیکس والے اسٹاک گرین زون میں ٹریڈ ہوئے۔
گزشتہ روز یعنی جمعرات کو اسٹاک مارکیٹ میں شدید اور وسیع پیمانے پر فروخت کا رجحان دیکھنے میں آیا تھا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک انڈیکس میں بڑی کمی ہوئی اور حالیہ منافع ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟
سرمایہ کاروں کا جذبہ اہم کارپوریٹ آمدنی کی توقعات کے مایوس کن نتائج، قیاس آرائی کی پوزیشنز کی بندش اور وسیع پیمانے پر منافع نکالنے کی وجہ سے تیزی سے خراب ہوا۔
کےایس سی 100 انڈیکس 6,042.27 پوائنٹس یعنی 3.21 فیصد کی کمی کے ساتھ 182,338.12 پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر، جمعہ کی ابتدائی ایشیائی مارکیٹ میں اسٹاک میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومت کے نئے بند ہونے سے بچنے کے لیے 2 جماعتوں کے معاہدے کی حمایت کی اور اعلان کیا کہ وہ فیڈرل ریزرو کے سربراہ کے لیے اپنی نامزدگی کا فیصلہ کر چکے ہیں۔
ایشیا پیسیفک کے جاپان کے علاوہ ایم ایس سی آئی کے وسیع انڈیکس میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، اور یہ گزشتہ دنوں کی کمی کو بڑھاتے ہوئے 0.2 فیصد نیچے رہا، حالانکہ یہ اپنی حالیہ 3 سالہ بہترین ماہانہ کارکردگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
مزید پڑھیں: یو بی ایل سب سے بڑی لسٹڈ کمپنی بن گئی، اسٹاک ایکسچینج 186000 پوائنٹس کی نئی بلندی پر
جمعرات کو وال اسٹریٹ اسٹاکس میں کمی آئی، جب مائیکروسافٹ کی غیر متوقع آمدنی نے خدشات بڑھا دیے کہ آیا ان کی مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کامیاب ہو گی یا نہیں، ایس اینڈ پی 500 0.1 فیصد نیچے بند ہوا، اور نیسڈیک کمپوزٹ 0.7 فیصد گر گیا۔
ایس اینڈ پی 500 میں تقریباً ایک تہائی کمپنیوں نے رپورٹنگ کی ہے، جن میں سے 76 فیصد نے آمدنی کے تخمینوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ تاہم، آمدنی کا سیزن اب تک بڑی امریکی ٹیک کمپنیوں کے لیے مخلوط رہا ہے جو انڈیکس پر غالب ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئل اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بجلی پاکستان پاکستان آئل فیلڈز تیل و گیس سیمنٹ فرٹیلائزر مسلم کمرشل بینک میزان بینک نیشنل بینک یونائیٹڈ بینک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بجلی پاکستان پاکستان ا ئل فیلڈز تیل و گیس فرٹیلائزر یونائیٹڈ بینک اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس میں پاکستان ا کے لیے
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔