پاکستان کا پہلی بار بڑے پیمانے پر قرضہ مدت سے قبل واپس کرنے کا ریکارڈ قائم
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
پاکستان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار بڑے پیمانے پر قرضہ مقررہ مدت سے قبل واپس کرنے کا ریکارڈ قائم کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق مالی سال 2026 میں قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی مالی سال 2025 کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ رہی۔
مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق وزارتِ خزانہ نے صرف 14 ماہ میں 3,654 ارب روپے کا اندرونی قرضہ قبل از وقت ادا کیا۔
تازہ ترین ادائیگی کے تحت حکومت نے جنوری 2026 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو 300 ارب روپے ادا کیے جبکہ مالی سال 26 کے ابتدائی سات ماہ (جولائی 2025 تا جنوری 2026) میں 2,150 ارب روپے سے زائد قرضہ قبل از وقت واپس کیا گیا۔
مالی سال 26 میں قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی مالی سال 25 کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ قبل از وقت ادائیگیوں میں 65 فیصد اسٹیٹ بینک، 30 فیصد ٹی بلز اور 5 فیصد پی آئی بیز شامل ہیں۔
ان ادائیگیوں کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کا قرضہ 5,500 ارب سے کم ہو کر تقریباً 3,000 ارب روپے رہ گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کا وہ قرضہ جس کی میعاد 2029 میں پوری ہونی تھی، مدت سے قبل ادا کر دیا گیا۔
پاکستان کا قرضہ برائے جی ڈی پی تناسب 74 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 70 فیصد تک آ گیا، بہتر قرض نظم و نسق کے باعث مالی سال 25 میں 850 ارب روپے کی بچت ہوئی۔
ماہرین کے مطابق مالی استحکام سے ترقیاتی منصوبے بڑھیں گے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ قرضوں کی کمی اور مالی استحکام سے بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک ارب روپے مالی سال
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔