بڑے سرکاری اداروں کے منافع میں کمی ریکارڈ، مالی کارکردگی پر سوالات اٹھ گئے
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان کے ٹاپ 15 سرکاری اداروں کے مالی نتائج سے متعلق وزارتِ خزانہ کی تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ان اداروں کا مجموعی منافع پانچ فیصد کمی کے بعد 622 ارب روپے تک محدود ہو گیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ کمی تقریباً 30 ارب روپے بنتی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بڑے سرکاری ادارے مالی دباؤ اور انتظامی مسائل کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف ایک سرکاری کمپنی ایسی رہی جس نے سالانہ بنیاد پر 100 ارب روپے سے زائد منافع کمایا جب کہ دیگر ادارے اس سطح تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے تیار کی گئی اس رپورٹ کو کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارے منظوری دے چکی ہے اور اب یہ وفاقی کابینہ کی توثیق کے مرحلے میں ہے، تاہم تاحال اسے باضابطہ طور پر جاری نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں سرکاری اداروں کے گورننس ڈھانچے پر سخت سوالات اٹھائے گئے ہیں اور واضح کیا گیا ہے کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی کارکردگی مجموعی طور پر غیر مؤثر رہی۔ رپورٹ کے مطابق بیشتر بورڈز یا تو نامکمل ہیں یا محض رسمی کردار ادا کر رہے ہیں، جس کے باعث اداروں کی نگرانی اور فیصلہ سازی کا عمل کمزور ہو چکا ہے۔
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ بورڈز کی آڈٹ اور رسک مینجمنٹ کمیٹیوں کی نگرانی نہایت محدود رہی، جس کے نتیجے میں مالی شفافیت اور احتساب کے تقاضے پورے نہیں ہو سکے۔
وزارتِ خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کے مطابق بورڈز کی کارکردگی جانچنے کے لیے کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے انتظامیہ کو مؤثر انداز میں چیلنج نہیں کیا جا سکا۔ اس صورتحال کے باعث کئی اہم مالی فیصلے اندازوں کی بنیاد پر کیے جاتے رہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف 36 فیصد سرکاری اداروں کے آڈٹس مقررہ وقت پر مکمل ہو سکے جب کہ باقی اداروں میں تاخیر کے باعث مالی معاملات مزید پیچیدہ ہو گئے۔ اسی تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سرکاری افسران کی بورڈ فیس سے متعلق فیصلہ بھی رپورٹ میں زیر بحث آیا، جس کے تحت اضافی فیس حکومت کو جمع کرانے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم بعد ازاں بیوروکریسی کے دباؤ کے باعث یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔
مالی نتائج کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 19 فیصد کمی کے باوجود آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ واحد ادارہ رہا جس نے 170 ارب روپے منافع کمایا۔ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ نے 90 ارب روپے جب کہ نیشنل بینک آف پاکستان نے 57 ارب روپے منافع حاصل کیا۔
اسی طرح واپڈا چوتھا بڑا منافع بخش ادارہ رہا، جس کا منافع 52 ارب روپے رہا۔ دوسری جانب وزارتِ خزانہ کے مطابق خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کے مجموعی نقصانات 6.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرکاری اداروں کے رپورٹ میں گیا ہے کہ ارب روپے کے مطابق کے باعث
پڑھیں:
گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی عمدہ کارکردگی کی بدولت پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم نے سری لنکا کو پہلے ایک روزہ میچ میں 5 وکٹوں سے شکست دے کر 3 میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ویمنز ٹیم کا سری لنکا ٹور: ٹی20 سیریز نئے مقام پر منتقل، کس کا پلڑا بھاری؟
آئی سی سی ویمنز چیمپیئن شپ 2025-29 کے تحت کھیلے گئے میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تاہم پاکستانی بولرز کی نپی تلی بولنگ کے باعث مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 210 رنز ہی بنا سکی۔
سری لنکا کی جانب سے اوپنرز وشمی گوناتنے اور کپتان چماری اتھاپتھو نے ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کیا اور ابتدائی 5 اوورز میں بغیر کسی نقصان کے 31 رنز بنائے۔ دونوں نے پہلی وکٹ کے لیے نصف سینچری شراکت بھی قائم کی جو سری لنکا کی جانب سے ون ڈے کرکٹ میں کسی بھی اوپننگ جوڑی کی 5ویں ففٹی پارٹنرشپ تھی۔
پاکستانی اسپنرز کے اٹیک پر آنے کے بعد سری لنکن بیٹنگ کی رفتار سست پڑ گئی۔ نشرہ سندھو نے پہلے وشمی گوناتنے کو آؤٹ کیا جبکہ بعد ازاں کپتان چماری اتھاپتھو کو بھی بولڈ کر دیا۔
اتھاپتھو اور حسینی پریرا نے دوسری وکٹ کے لیے 53 رنز جوڑے تاہم اس کے بعد پاکستانی بولرز نے میچ پر گرفت مضبوط کر لی۔ نیلکشیکا سلوا اور کویشا دلہاری کے درمیان 5ویں وکٹ کے لیے 42 رنز کی شراکت کے علاوہ کوئی بڑی پارٹنرشپ نہ بن سکی جبکہ آخری 7 اوورز میں سری لنکا نے 32 رنز کے عوض 5 وکٹیں گنوا دیں۔
مزید پڑھیے: فاطمہ ثنا نے تاریخ رقم کر دی، ویمنز دی ہنڈرڈ کھیلنے والی پہلی پاکستانی کرکٹر بن گئیں
پاکستان کی جانب سے نشرہ سندھو نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 42 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔
گل فیروزہ کی مسلسل چوتھی نصف سینچری211 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے پراعتماد آغاز کیا۔ اوپنر گل فیروزہ نے ایک مرتبہ پھر عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل چوتھی ون ڈے نصف سینچری اسکور کی۔
انہوں نے ابتدائی پاور پلے میں جارحانہ انداز اپنایا اور صدف شمس کے ساتھ پہلی وکٹ کے لیے 58 رنز کی شراکت قائم کی۔
Pakistan women beat Sri Lanka women by 5 wickets in the first One-Day International of the three-match series in Hambantota today.@TheRealPCBMedia @TheRealPCB #News #RadioPakistan https://t.co/5cesGghrAK
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) July 23, 2026
بعد ازاں گل فیروزہ اور سدرہ امین نے دوسری وکٹ کے لیے 90 رنز کا اہم اضافہ کیا جس نے پاکستان کی فتح کی بنیاد رکھ دی۔
مزید پڑھیں: ویمنز ورلڈکپ فوٹو شوٹ میں فاطمہ ثنا اور جے شاہ کا مصافحہ توجہ کا مرکز بن گیا
گل فیروزہ نے 77 گیندوں پر 78 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ صدف امین نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 94 گیندوں پر 57 رنز بنائے۔
پاکستان نے مطلوبہ ہدف 45 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا اور یوں سیریز کا آغاز کامیابی سے کیا۔
آئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ میں دوسری پوزیشنیہ پاکستان ویمنز ٹیم کی مسلسل 5ویں ون ڈے فتح ہے جس کے بعد قومی ٹیم آئی سی سی ویمنز چیمپیئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر دوسرے نمبر پر پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیے: فاطمہ ثنا کا ایک اور سنگ میل: صرف 15 گیندوں پر نصف سینچری بناکر ٹی 20 کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سیریز کا دوسرا ایک روزہ میچ 25 جولائی کو ہمبنٹوٹا میں ہی کھیلا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان ویمنز بمقابلہ سری لنکا پاکستان ویمنز ٹیم کی فتح سدرہ امین صدف شمس فاطمہ ثنا گل فیروزہ