لاہور میں آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ کی ٹرافی کی نمائش
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
لاہور پہنچنے کے بعد آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ کی ٹرافی کی نمائش کا پہلا مرحلہ نجی کالج میں منعقد کیا گیا، جہاں رونمائی کے ساتھ ساتھ ویمنز کرکٹ میچز کا بھی انعقاد ہوا۔ تقریب میں مہمان خصوصی آسٹریلوی ہائی کمشنر بھی موجود تھے، جنہوں نے ٹرافی کے ساتھ تصاویر بنوائیں اور طالبات بھی اپنی سلیفیاں لیتے رہے۔
آسٹریلوی ہائی کمشنر نے کہا کہ آسٹریلیا گرلز کرکٹ کے ذریعے پاکستان میں خواتین کرکٹ کے فروغ میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور چاہتے ہیں کہ پاکستانی خواتین دیگر شعبوں کی طرح کرکٹ میں بھی نمایاں مقام حاصل کریں۔
ٹرافی کا لاہور ٹور پاکستان اور آسٹریلیا کے دوسرے ٹی20 میچ کے موقع پر بھی جاری رہے گا، جہاں کھلاڑیوں کا فوٹو شوٹ بھی شیڈول ہے۔ قذافی اسٹیڈیم کے باہر پی سی بی کی شاپ پر فینز کے لیے بھی ٹرافی کی نمائش ہوگی، جبکہ تیسرے ٹی20 میچ کے دوران میڈیا اور دیگر مہمانوں کے لیے بھی ٹرافی نمائش کے لیے رکھی جائے گی۔
اس موقع پر نہ صرف کرکٹ کے شوقین بلکہ طالبات اور مہمان خصوصی کا بھی جوش و خروش دیکھنے کے قابل تھا، اور تقریب نے خواتین کرکٹ کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔