پانی میں نمک کا زیادہ استعمال دل کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے: تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کھانے میں زیادہ نمک کے استعمال پر بحث عام ہے، لیکن روزانہ پینے والے پانی میں نمک کی موجودگی کے ممکنہ خطرات پر شاذ و نادر ہی توجہ دی جاتی ہے۔ تازہ ترین تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نمکین پانی پینے سے دل کی صحت متاثر ہو سکتی ہے اور بلڈ پریشر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی کے محققین نے دنیا کے مختلف حصوں میں کی جانے والی مطالعات کا جائزہ لیا۔ اس تحقیق میں 27 مختلف آبادیوں کے 74 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ شامل تھا، جس میں امریکا، بنگلا دیش، ویتنام، کینیا، آسٹریلیا، اسرائیل اور متعدد یورپی ممالک کے ساحلی علاقوں سے حاصل شدہ معلومات شامل تھیں۔ یہ علاقے اس لحاظ سے اہم ہیں کہ یہاں پانی کے ذرائع اکثر نمکین زمینی پانی ہوتے ہیں، جسے پینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سوڈیئم یا نمک جسم میں خون اور شریانوں کے دباؤ کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم اضافی نمک جسم میں پانی کے برقرار رہنے کا سبب بنتا ہے، جس سے خون کی مقدار بڑھتی ہے اور شریانوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
نتائج کے مطابق زیادہ نمکین پانی پینے والے افراد کے سسٹولک بلڈ پریشر میں تقریباً 3.
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کے باعث ساحلی علاقوں میں روزانہ استعمال ہونے والے پانی میں نمک کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے عام شہریوں کے لیے دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
صحت کے ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ نمکین پانی کے استعمال سے گریز کیا جائے اور جہاں ممکن ہو، پانی کے فلٹریشن یا ریورس اوسماس کے ذریعے نمک کی مقدار کم کی جائے۔
یہ تحقیق شہریوں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے پانی کی معیاری مقدار کے ساتھ ساتھ اس کے معیار اور نمکیات پر بھی توجہ دینا ناگزیر ہے، ورنہ خاموش خطرہ دل اور شریانوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سکتا ہے پانی کے کے لیے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ریسکیو 1122 نے صوبے بھر میں اپنی تمام ضلعی ٹیموں کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے باعث ضلع بنوں کے مختلف علاقوں میں اب تک 20 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مردان، پشاور اور دیگر اضلاع میں بھی آندھی اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد ایمرجنسی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
پشاور کے مختلف مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
بلال احمد فیضی نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی تمام ضلعی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بارش تیز ہوائیں خیبرپختونخوا زخمی وی نیوز