data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کھانے میں زیادہ نمک کے استعمال پر بحث عام ہے، لیکن روزانہ پینے والے پانی میں نمک کی موجودگی کے ممکنہ خطرات پر شاذ و نادر ہی توجہ دی جاتی ہے۔ تازہ ترین تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نمکین پانی پینے سے دل کی صحت متاثر ہو سکتی ہے اور بلڈ پریشر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی کے محققین نے دنیا کے مختلف حصوں میں کی جانے والی مطالعات کا جائزہ لیا۔ اس تحقیق میں 27 مختلف آبادیوں کے 74 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ شامل تھا، جس میں امریکا، بنگلا دیش، ویتنام، کینیا، آسٹریلیا، اسرائیل اور متعدد یورپی ممالک کے ساحلی علاقوں سے حاصل شدہ معلومات شامل تھیں۔ یہ علاقے اس لحاظ سے اہم ہیں کہ یہاں پانی کے ذرائع اکثر نمکین زمینی پانی ہوتے ہیں، جسے پینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سوڈیئم یا نمک جسم میں خون اور شریانوں کے دباؤ کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم اضافی نمک جسم میں پانی کے برقرار رہنے کا سبب بنتا ہے، جس سے خون کی مقدار بڑھتی ہے اور شریانوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

نتائج کے مطابق زیادہ نمکین پانی پینے والے افراد کے سسٹولک بلڈ پریشر میں تقریباً 3.

2 ایم ایم ایچ جی اور ڈائی اسٹولک پریشر میں تقریباً 2.8 ایم ایم ایچ جی اضافہ دیکھا گیا۔ مزید برآں، ان افراد میں ہائی بلڈ پریشر کے لاحق ہونے کا خطرہ تقریباً 26 فیصد زیادہ تھا۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کے باعث ساحلی علاقوں میں روزانہ استعمال ہونے والے پانی میں نمک کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے عام شہریوں کے لیے دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

صحت کے ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ نمکین پانی کے استعمال سے گریز کیا جائے اور جہاں ممکن ہو، پانی کے فلٹریشن یا ریورس اوسماس کے ذریعے نمک کی مقدار کم کی جائے۔

یہ تحقیق شہریوں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے پانی کی معیاری مقدار کے ساتھ ساتھ اس کے معیار اور نمکیات پر بھی توجہ دینا ناگزیر ہے، ورنہ خاموش خطرہ دل اور شریانوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سکتا ہے پانی کے کے لیے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ