اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر پاور اویس لغاری نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں صنعتوں کے لیے بجلی کے بلوں میں 4 روپے 40 پیسے فی یونٹ کمی کے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔

اویس لغاری کے مطابق حکومت کے ابتدائی دور میں صنعتوں پر بجلی کی مد میں 8 روپے 90 پیسے فی یونٹ کا اضافی بوجھ تھا، تاہم اب وزیراعظم پاکستان کی رہنمائی میں یہ بوجھ ختم کر دیا گیا ہے اور صورتحال آلحمداللہ صفر پر آ چکی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ صنعتوں سے اس بوجھ کے خاتمے کے نتیجے میں ویلنگ چارجز میں بھی کراس سبسڈی کی مد میں 4 روپے 40 پیسے فی یونٹ کمی ہوگی، جس سے صنعتی شعبے کو نمایاں ریلیف ملے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مجموعی طور پر صنعتوں کے لیے بجلی اب تقریباً ساڑھے گیارہ سینٹ فی یونٹ دستیاب ہوگی، جو صنعتی ترقی اور پیداواری لاگت میں کمی کے لیے اہم پیش رفت ہے۔

اویس لغاری نے اپنے پیغام کے اختتام پر “اڑان پاکستان زندہ باد” کا نعرہ بھی لگایا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چوتھے روز بھی اضافہ کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 24 جولائی کیلیے اضافہ کرتے ہوئے نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کیا گیا ہے۔

حالیہ اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ