فائل فوٹو

سیکریٹری نجکاری کمیشن نے واضح کیا کہ فوجی فاؤنڈیشن قومی ایئرلائن خریدنے والے عارف حبیب کنسورشیم کا حصہ نہیں ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نجکاری کا اجلاس سینیٹر افنان اللّٰہ خان کی سربراہی میں ہوا، اس موقع پر سیکریٹری نجکاری نے بریفنگ دی اور بتایا کہ قومی ایئرلائن کے 25 فیصد شیئرز حکومت کے پاس ہیں۔

پارلیمنٹ ڈسپنسری کو 30 فیصد سستی دوا کی فراہمی پر سوال اٹھ گیا

پارلیمنٹ ڈسپنسری کو 30 فیصد سستی دوا کی فراہمی پر سوال اٹھ گیا، ڈرگ ریگولیٹری اتھارتی سے معاملے کی وضاحت مانگ لی گئی۔

انہوں نےبتایا کہ عارف حبیب کنسورشیم کے پاس کاروبار چلانے کا وسیع تجربہ ہے، فوجی فاؤنڈیشن ان کا حصہ نہیں ہے جبکہ قومی ایئر لائن کے 25 فیصد شیئرز حکومت کے پاس ہیں، جن کی ویلیو 45 ارب روپے ہے۔

سیکریٹری نجکاری نے مزید کہا کہ عارف حبیب کنسورشیم نےامریکی ایوی ایشن کنسلٹنسی فرم کو ہائیر کیا، قومی ایئرلائن کا فنانشل کلوز 3 ماہ میں ہوگا، خلیجی ممالک کے ساتھ معاہدوں کو تبدیل کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عارف حبیب کنسورشیم 125 ارب روپے پی آئی اے میں انویسٹ کرے گا اور 3 ماہ میں 10 ارب روپے حکومت کو جمع کرائے گا۔

سیکریٹری نجکاری نے کہا کہ قومی ایئرلائن کی کل ویلیو 9 ارب روپے ہے، فنانشل کلوز ہونے پر قومی ایئرلائن کی ویلیو 180ارب روپے ہوجائے گی، ایئر لائن کا بزنس پلان 1ماہ میں پیش کیا جائے گا، اس کے جہاز 4 سال میں 40 ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قومی ایئرلائن کو بند کرنے کی قیمت 200 سے 300 ارب روپے ہوتی، اگر ایئر لائن کو بند کیا جاتا تو تمام واجبات حکومت کو ادا کرنا پڑتے اور اس کے پنشنرز کو 34ارب روپےکی ادائیگی بھی حکومت کو ادا کرنا پڑتی۔

دوران اجلاس افنان اللّٰہ خان نے کہا کہ اسلام آباد ایئر پورٹ کی نجکاری کردیں یا سہولیات بہتر کریں، کراچی ایئر پورٹ پر چوہے گھومتے ہیں، حکومت ان ائیر پورٹس کی نجکاری کرے گی۔

سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ کیا اب حکومت خود کوئی کام نہیں کرسکتی؟ وہ سارے باہر والے کریں گے، پارلیمنٹ میں بھی ہاتھی نہیں چوہے گھومتے رہتے ہیں۔

چیئرمین کے سوال پر سیکریٹری نجکاری نے جواب دیا کہ قومی ایئر لائن کی نجکاری کے بعد ایئر پورٹس کی نجکاری میں دلچسپی بڑھ گئی ہے، اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں داخلے میں 1 گھنٹہ لگ جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب، ترکیے، یو اے ای کی کمپنیاں ایئر پورٹس چلانے میں دلچسپی رکھتی ہیں، ایشیائی ترقیاتی بینک بھی ایئر پورٹس کی آوٹ سورسنگ میں مدد میں دلچسپی رکھتا ہے، بڑے ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ سے چھوٹے ایئر پورٹس کو زیادہ بہتر کیا جاسکے گا۔

اس پر سینیٹر بلال احمد نے کہا کہ حکومت ایک بار میں ہی تمام ایئر پورٹس کی آؤٹ سورسنگ کر دے، اس پر سول ایوی ایشن اتھارٹی بہتر رائے دے سکتی ہے۔

دوران اجلاس سینیٹر عمر فاروق نے کہا کہ ہمیں قومی ایئرلائن کی نجکاری کے طریقہ کار پر اعتراض ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے جواب دیا کہ قومی ایئر لائن کا سالانہ 100 ارب کا نقصان تھا، اب نجکاری پر اعتراض کر رہے ہیں، حکومت کا 17 ہزار ارب روپے مجموعی بجٹ ہے، 900 ارب روپے بچ جائیں تو بڑی بات ہوگی۔

سیکریٹری نجکاری نے شرکاء کو بتایا کہ قوی ایئر لائن کے کسی بڈرز کو کوئی رعایت نہیں دی گئی، عارف حبیب گروپ کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست زیر التوا ہے، یہ درخواست کسی کو نا اہل قرار دینے کی بنیاد نہیں ہے۔

سیکریٹری نجکاری نے مزید کہا کہ قومی ایئرلائن کےبڈرز کی فنانشل مینجمنٹ یونٹ سے اسکروٹنی کرائی گئی، ورلڈ بینک،ایف بی آر اور دیگر اداروں سے رپورٹ مانگی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سیکریٹری نجکاری نے کہ قومی ایئرلائن کہ قومی ایئر ایئر پورٹس ایئر لائن کی نجکاری نے کہا کہ ارب روپے پورٹس کی نہیں ہے لائن کی لائن کے

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان