پاک افغان سرحد کی بندش کے باعث خیبر پختونخوا کو 7 ماہ میں 4 ارب روپے کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
پاک افغان سرحد کی بندش کے باعث خیبر پختونخوا کو 7 ماہ میں 4 ارب روپے کا نقصان ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق پاک افغان سرحد پر طویل بندش اور سرحدی تجارت و ٹرانزٹ کی معطلی کے باعث خیبر پختونخوا کو انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (آئی ڈی سی) کی مد میں شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔ خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کے مطابق رواں مالی سال کے دوران آئی ڈی سی کلیکشن میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ۔خیبر پختونخوا حکومت نے شدید ریونیو خسارے، معاشی جمود اور روزگار کے بحران پر وفاق سے رابطہ کرلیا ہے۔مراسلے میں صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل اعلیٰ سطحی اجلاس بلانے کی سفارش کی گئی ۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال 2024-25میں جولائی سے جنوری کے 7 ماہ میں مجموعی آمدن 7 ارب 42 کروڑ روپے رہی جو کہ مجموعی تخمینے سے 4 ارب روپے کم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا