کراچی اور جنوبی خیبر پختونخوا میں پولیو کے کیسز موجود ہیں، فوکل پرسن
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو پروگرام عائشہ رضا نے کہا ہے کہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے نمایاں پیش رفت کے باوجود کراچی اور جنوبی خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں پولیو وائرس کے کیسز بدستور موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان اور لاہور میں صورتحال کسی حد تک قابو میں آ چکی ہے، تاہم چند شہروں میں چیلنجز برقرار ہیں جن سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔
انسداد پولیو مہم کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے عائشہ رضا نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے اور اس کے بغیر اس قومی مقصد کو حاصل کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نئے سال کی پہلی قومی انسداد پولیو مہم 2 فروری سے 8 فروری تک جاری رہے گی، جس کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
عائشہ رضا کے مطابق اس مہم کے دوران لاکھوں پولیو ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو حفاظتی قطرے پلائیں گے۔ انہوں نے والدین اور کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ پولیو ورکرز سے مکمل تعاون کریں تاکہ کوئی بچہ اس مہلک مرض سے متاثر نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں میں پاکستان نے پولیو کے خلاف جنگ میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم وائرس کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ کراچی کے کچھ علاقوں میں پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے مہم متاثر ہوتی ہے۔ عائشہ رضا کا کہنا تھا کہ عوامی آگاہی اور اعتماد سازی کے ذریعے ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر قوم متحد ہو کر اس مہم کا ساتھ دے تو پاکستان کو جلد پولیو فری ملک بنایا جا سکتا ہے، جو نہ صرف بچوں کے محفوظ مستقبل بلکہ عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کے لیے بھی اہم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں پولیو پولیو کے انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔