بڑی خوشخبری، تاریخ کا سب سے بڑا رمضان ریلیف پیکج لانے کی تیاریاں
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: پاکستانیوں کےلیے بڑی خوشخبری آگئی، حکومت کی جانب سے تاریخ کا سب سے بڑا رمضان ریلیف پیکج لانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت اس بار رمضان میں 110 ارب روپے سے زائد کا ریلیف پیکج دےگی، رواں سال رمضان ریلیف پیکج سے ایک کروڑ شہریوں کو سہولتیں دی جائیں گی، وزیراعظم نےرمضان میں زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی ہدایات جاری کردیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ماہانہ 50 ہزار روپے سے کم آمدن والوں کورمضان ریلیف پیکج میں شامل کرنے پر غور کیا جارہا ہے، وفاق کی جانب سے رمضان ریلیف پیکج کے لیے 30 ارب روپے سے زائد مختص کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔
وزیراعلیٰ سانحہ داتا دربار پر سخت غصے میں، افسروں کو برطرف اور گرفتار کرنے کا حکم
حکام نے بتایا کہ پنجاب نے رمضان ریلیف پیکج کے لیے 45 ارب روپے مختص کیے ہیں، سندھ کی حکومت بھی رمضان ریلیف کے لیے 25 ارب روپے مختص کرنے پر غور کررہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ کےپی حکومت بھی 10 سے 13 ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکج پر ورکنگ کررہی ہے، وفاق کی جانب سے گزشتہ رمضان ریلیف پیکج میں 20 ارب روپے جاری کیے گئے تھے۔
وزارت خزانہ، وزارت صنعت، وزارت تخفیف غربت کی رمضان ریلیف پر ہنگامی ورکنگ جاری ہے، درآمد چینی بھی ریلیف پیکج کے تحت رمضان بازاروں میں رعایتی نرخ پر ملےگی، رمضان ریلیف پیکج کیلئے ایس ایم ایس سروس 8070 پر رجسٹریشن ہوگی۔
ایران کسی بھی حملے کا فوری اور طاقت ور جواب دینے کیلئے تیار ہے، عراقچی کا ٹرمپ کو ’’تگڑا‘‘ جواب
ذرائع نے مزید بتایا کہ رمضان ریلیف پیکج کیلئے بی آئی ایس پی کے ڈیٹا سے بھی مدد لی جائےگی، وزیراعظم نے بی آئی ایس پی سے ہٹ کر بھی مستحقین کو رمضان پیکج میں شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: رمضان ریلیف پیکج ارب روپے بتایا کہ
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔