فوٹو: فائل

صنعتی شعبے کےلیے آئی ایم ایف سے ریلیف کی تفصیلات سامنے آگئیں۔  ذرائع کا کہنا ہے کہ صنعتی شعبے سے 102 ارب روپے کی کراس سبسڈی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ 

اس حوالے سے سامنے آنے والی دستاویز کے مطابق سپر ٹیکس میں سالانہ کمی ایک فیصد کے حساب سے کیے جانے کی تجویز ہے جبکہ پانچ سال میں سپر ٹیکس 10 سے 5 فیصد تک لایا جائے گا۔

اسی طرح مالی گنجائش بہتر ہونے پر سپر ٹیکس میں اصلاحات اور مرحلہ وار خاتمے کی تجویز دی گئی ہے۔ 

حکومت کی آئی ایم ایف سے کچھ شعبوں میں رعایتیں لینے کی تیاری

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مذاکرات کے معاملے پر نئی حکمتِ عملی طے پائی ہے۔

دستاویز کے مطابق ٹیکس فائلنگ، انٹرفیس اور آڈٹ نظام کو سادہ اور آسان بنایا جائے گا جبکہ برآمد کنندگان کیلیے مقامی ٹیکسوں اور لیویز ختم کرنے کی تجویز ہے۔ 

صنعتی شعبے کےلیے بجلی کے ٹیرف سے کراس سبسڈی ختم کرنے کی تجویز ہے۔ بجلی کےلیے پیک آور ریٹس کے خاتمے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ صنعتی شعبے کیلیے گیس پرکراس سبسڈی ختم کرنے کی بھی تجویز ہے۔ 

دستاویز کے مطابق برآمد کنندگان کا آڈٹ ہر 3 سال میں صرف ایک مرتبہ کیے جانے کی تجویز ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ختم کرنے کی تجویز سبسڈی ختم کرنے کی کی تجویز ہے صنعتی شعبے ایم ایف

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا