قائم مقام صدرِ مملکت یوسف رضا گیلانی نے مقامی سطح پر پاکستانی برانڈ کے تحت گاڑی تیار کرنے اور کم لاگت الیکٹرک بائیکس متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حماد علی منصور سے ایوانِ صدر میں ملاقات کے دوران انہوں نے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے فعال کردار کو سراہا۔

یوسف گیلانی کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز کا کیا فیوچر ہے؟

انہوں نے کہا کہ ’میڈ اِن پاکستان‘ کے تحت پاکستانی برانڈ کی گاڑی اور کم قیمت الیکٹرک بائیکس متعارف کرانے سے نہ صرف سستی نقل و حرکت کو فروغ ملے گا بلکہ ملکی مینوفیکچرنگ کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔

ملاقات میں ای ڈی بی کے سی ای او نے حماد علی منصور قائم مقام صدر کو ادارے کے کردار اور مینڈیٹ پر بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ وزارتِ صنعت و پیداوار کے تحت قائم یہ ادارہ 1995 میں ملک کے انجینئرنگ شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: الیکٹرک بائیکس اور رکشوں پر 50 ہزار روپے کی سبسڈی، کیا عام صارف کو بھی فائدہ ہوگا؟

حماد علی منصور نے ای ڈی بی کی جانب سے صنعتی ترقی کے فروغ، برآمدات میں اضافے، تحقیق و ترقی، فنی مہارتوں میں بہتری اور انجینئرنگ شعبے کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جاری اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

انہوں نے طویل المدتی اسٹریٹجک منصوبہ بندی، ٹیرف میں اصلاحات، صنعتی ترقی کے فریم ورک، آٹو موبائل اور الیکٹرک وہیکل پالیسیوں کے ساتھ ساتھ جدت، نئی ٹیکنالوجی کے استعمال اور افرادی قوت کی تربیت سے متعلق پالیسی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔

قائم مقام صدر نے اس موقع پر انجینئرنگ شعبے کو معیشت اور صنعتی ترقی کا اہم محرک قرار دیتے ہوئے اس شعبے کی مکمل سرکاری سرپرستی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹوموبائل افرادی قوت الیکٹرک وہیکل انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ ٹیرف ٹیکنالوجی حماد علی منصور صنعتی ترقی فریم ورک قائمقام صدر مملکت مینوفیکچرنگ یوسف رضا گیلانی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آٹوموبائل افرادی قوت الیکٹرک وہیکل انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ ٹیرف ٹیکنالوجی حماد علی منصور صنعتی ترقی قائمقام صدر مملکت مینوفیکچرنگ یوسف رضا گیلانی الیکٹرک بائیکس حماد علی منصور صنعتی ترقی انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا

نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔

ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔

فیچر کیسے کام کرتا ہے؟

صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔

مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا

ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔

ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔

مختلف ڈسپلے موڈز

نئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔

پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔

اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔

مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش

فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔

گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔

صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔

بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختم

ایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔

صارفین کا ردعمل

فیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔

تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔

ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ

ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ