Nawaiwaqt:
2026-06-02@20:44:33 GMT

صنعتی شعبے سے 102 ارب روپے کی کراس سبسڈی ختم کرنے کی تجویز

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

صنعتی شعبے سے 102 ارب روپے کی کراس سبسڈی ختم کرنے کی تجویز

صنعتی شعبے کےلیے آئی ایم ایف سے ریلیف کی تفصیلات سامنے آگئیں۔  ذرائع کا کہنا ہے کہ صنعتی شعبے سے 102 ارب روپے کی کراس سبسڈی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ 

آئندہ ہفتے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ہونے والی بات چیت کیلئے پاکستان کی گروتھ کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک پیکیج تیار کیا جارہا ہے۔

اس حوالے سے سامنے آنے والی دستاویز کے مطابق سپر ٹیکس میں سالانہ کمی ایک فیصد کے حساب سے کیے جانے کی تجویز ہے جبکہ پانچ سال میں سپر ٹیکس 10 سے 5 فیصد تک لایا جائے گا۔

اسی طرح مالی گنجائش بہتر ہونے پر سپر ٹیکس میں اصلاحات اور مرحلہ وار خاتمے کی تجویز دی گئی ہے۔ 

دستاویز کے مطابق ٹیکس فائلنگ، انٹرفیس اور آڈٹ نظام کو سادہ اور آسان بنایا جائے گا جبکہ برآمد کنندگان کیلیے مقامی ٹیکسوں اور لیویز ختم کرنے کی تجویز ہے۔ 

صنعتی شعبے کےلیے بجلی کے ٹیرف سے کراس سبسڈی ختم کرنے کی تجویز ہے۔ بجلی کےلیے پیک آور ریٹس کے خاتمے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ صنعتی شعبے کیلیے گیس پرکراس سبسڈی ختم کرنے کی بھی تجویز ہے۔ 

دستاویز کے مطابق برآمد کنندگان کا آڈٹ ہر 3 سال میں صرف ایک مرتبہ کیے جانے کی تجویز ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سبسڈی ختم کرنے کی ختم کرنے کی تجویز کی تجویز ہے صنعتی شعبے

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا