پنجاب : ہاؤسنگ سوسائٹیزکیلئےٹیکس چھوٹ کے حوالے سے اہم خبر
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
علی رامے: پنجاب میں ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لیے ٹیکس میں بڑی رعایت کی تجویز سامنے آ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ہاؤسنگ سوسائٹی کی کمپنی میں شامل ہونے پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
بورڈ آف ریونیو نے ہاؤسنگ سوسائٹیز پر جائیداد کی ملکیت کے ٹائٹل اور اسٹامپ ڈیوٹی ختم کرنے کی تجاویز حکومت کو بھجوا دی ہیں۔
سفارشات میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی سوسائٹی کی کمپنی کا حصہ بننے کو جائیداد کی فروخت تصور کرنا درست نہیں۔ ذرائع کے مطابق ادارہ تبدیل ہونے کی صورت میں زمین فروخت نہیں ہوتی، اس لیے اس پر ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا۔
پشاوربورڈ نے میٹرک امتحانات کے شیڈول کا اعلان کردیا
بورڈ آف ریونیو کا کہنا ہے کہ بھاری ٹیکسوں کے باعث متعدد کمپنیاں پنجاب چھوڑ رہی ہیں، جو صوبے کی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ذرائع کے مطابق لاہور میں صرف دو کیسز میں ایک ارب 38 کروڑ روپے کا ٹیکس بنایا گیا، جو قواعد کے مطابق جائز نہیں تھا۔
سفارش کی گئی ہے کہ ایسے کیسز کو جائیداد کی منتقلی کی تعریف سے خارج کیا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پالیسی میں اس تبدیلی سے ہاؤسنگ اور کاروباری شعبے کو نمایاں ریلیف ملے گا اور سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔
پاکستان اسٹیل ملز کے اثاثے چوری ہونے لگے، چوری سے بچانےکیلئے بعض اثاثوں کی نیلامی کا فیصلہ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔