نیپرا کا نئے سولر نیٹ میٹرنگ ریگولیشنزپر عوامی سماعت کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سولر نیٹ میٹرنگ کے نئے ریگولیشنز پر عملدرآمد سے قبل عوامی سماعت کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
نیپرا کے مطابق نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2025ء کے مسودے پر عوامی سماعت 6 فروری کو منعقد کی جائے گی، جس میں عوام اور تمام شراکت داروں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ نیپرا کا کہنا ہے کہ نئے ریگولیشنز 2025ء کے مسودے کی کاپی نیپرا کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے، سی پی پی اےنیٹ میٹرنگ صارفین کو گرڈ پراضافی بوجھ سمجھتی ہے۔
سی پی پی اے کے مطابق نیٹ میٹرنگ صارفین کی وجہ سے گرڈ صارفین پر 3 روپے 5 پیسے فی یونٹ اضافی بوجھ پڑتاہے۔ نیپرا کا کہناتھا کہ سولرنیٹ میٹرنگ کی وجہ سے پروٹیکٹڈ صارفین بڑھ رہے ہیں۔
نئے ریگولیشننز کے مطابق نیٹ میٹرنگ صارفین کیلئے الگ الگ ٹیرف ہوں گے ، کمپنی صارف سے نیشنل ایوریج انرجی پرچیز پرائس کے مطابق فی یونٹ بجلی خریدے گی ، بجلی کمپنی صارف کو موجودہ ٹیرف کے حساب سے بجلی فراہم کرے گی ، کوئی بھِی صارف اپنے لوڈ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کا مجاز نہیں ہوگا، نیپرا نیٹ میٹرنگ صارف کی پیداوری صلاحیت پر نظرثانی کر سکے گا۔
نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیےبجلی کی فروخت اور خریداری کیلئے الگ الگ میٹرز ہوں گے، نیا نیٹ میٹرنگ صارف اپنی بجلی کسی دوسرے صارف کو فروخت نہیں کر سکے گا، نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کا اطلاق نئے نیٹ میٹرنگ صارفین پر ہو گا، نئے نیٹ میٹرنگ صارفین کو بائی بیک ریٹ کے بجائے 10 روپےفی یونٹ کرنے کی تجویز ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نیٹ میٹرنگ صارفین نیٹ میٹرنگ صارف کے مطابق
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔