اسلام آباد(نیوزڈیسک)نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سولر نیٹ میٹرنگ کے نئے ریگولیشنز پر عملدرآمد سے قبل عوامی سماعت کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

نیپرا کے مطابق نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2025ء کے مسودے پر عوامی سماعت 6 فروری کو منعقد کی جائے گی، جس میں عوام اور تمام شراکت داروں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ نیپرا کا کہنا ہے کہ نئے ریگولیشنز 2025ء کے مسودے کی کاپی نیپرا کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے، سی پی پی اےنیٹ میٹرنگ صارفین کو گرڈ پراضافی بوجھ سمجھتی ہے۔

سی پی پی اے کے مطابق نیٹ میٹرنگ صارفین کی وجہ سے گرڈ صارفین پر 3 روپے 5 پیسے فی یونٹ اضافی بوجھ پڑتاہے۔ نیپرا کا کہناتھا کہ سولرنیٹ میٹرنگ کی وجہ سے پروٹیکٹڈ صارفین بڑھ رہے ہیں۔

نئے ریگولیشننز کے مطابق نیٹ میٹرنگ صارفین کیلئے الگ الگ ٹیرف ہوں گے ، کمپنی صارف سے نیشنل ایوریج انرجی پرچیز پرائس کے مطابق فی یونٹ بجلی خریدے گی ، بجلی کمپنی صارف کو موجودہ ٹیرف کے حساب سے بجلی فراہم کرے گی ، کوئی بھِی صارف اپنے لوڈ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کا مجاز نہیں ہوگا، نیپرا نیٹ میٹرنگ صارف کی پیداوری صلاحیت پر نظرثانی کر سکے گا۔

نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیےبجلی کی فروخت اور خریداری کیلئے الگ الگ میٹرز ہوں گے، نیا نیٹ میٹرنگ صارف اپنی بجلی کسی دوسرے صارف کو فروخت نہیں کر سکے گا، نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کا اطلاق نئے نیٹ میٹرنگ صارفین پر ہو گا، نئے نیٹ میٹرنگ صارفین کو بائی بیک ریٹ کے بجائے 10 روپےفی یونٹ کرنے کی تجویز ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نیٹ میٹرنگ صارفین نیٹ میٹرنگ صارف کے مطابق

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان