بھارت: شادی کی فوٹوگرافی کے دوران حیران کن واقعہ، فوٹوگرافر پول میں گرنے کے باوجود تصاویر بناتا رہا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت میں منعقد ہونے والی ایک شادی کی تقریب اس وقت غیر معمولی توجہ کا مرکز بن گئی جب فوٹو شوٹ کے دوران ایک فوٹوگرافر اچانک سوئمنگ پول میں جا گر، مگر حیران کن طور پر اس کے ہاتھ سے کیمرہ نہ چھوٹا اور اس نے تصاویر بنانا جاری رکھا۔
اس غیر متوقع واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جہاں صارفین فوٹوگرافر کی پیشہ ورانہ وابستگی اور لگن کو بھرپور انداز میں سراہ رہے ہیں۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فوٹوگرافر نوبیاہتا جوڑے کے سنیما اسٹائل شاٹس لیتے ہوئے آہستہ آہستہ پیچھے کی جانب بڑھ رہا تھا۔ شادی کی دلکش سجاوٹ، روشنیوں اور رومانوی مناظر کو کیمرے میں قید کرنے کی کوشش میں وہ یہ اندازہ نہ لگا سکا کہ اس کے پیچھے سوئمنگ پول موجود ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ پانی میں جا گرا۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جیسے ہی فوٹوگرافر پول میں گرا، قریبی افراد فوری طور پر مدد کے لیے آگے بڑھے، تاہم اس نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں رکنے کا کہا اور پانی میں کھڑے ہو کر بھی دلہا دلہن کی تصاویر بناتا رہا۔ اس غیر معمولی صورتحال میں بھی اس کی توجہ مکمل طور پر فوٹو شوٹ پر مرکوز رہی، جس نے تقریب میں موجود افراد اور بعد ازاں ویڈیو دیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ کئی صارفین نے فوٹوگرافر کے جذبے کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی ذات کی پرواہ کیے بغیر جوڑے کے قیمتی لمحات کو محفوظ رکھا۔
بعض صارفین کا کہنا تھا کہ جس اعتماد اور سنجیدگی کے ساتھ اس نے لوگوں کو مدد سے روکا، وہ اس کی پیشہ ورانہ تربیت اور کام سے وابستگی کی واضح مثال ہے۔
کچھ صارفین نے اس منظر کو مزاحیہ قرار دیا، جبکہ کئی افراد نے اسے متاثر کن لمحہ کہا اور رائے دی کہ ایسی لگن اور یکسوئی ہر شعبے میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔
یہ وائرل ویڈیو ایک بار پھر اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بعض افراد اپنے پیشے سے اس قدر مخلص ہوتے ہیں کہ غیر متوقع حالات بھی انہیں اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر پاتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :