احتجاج سے خطاب میں رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لیا جائے اور فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کا تاریخی اور اصولی مؤقف برقرار رکھا جائے، عوامی ریفرنڈم کرایا جائے، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے، اس فیصلے پر تفصیلی بحث کی جائے اور اس نام نہاد پیس بورڈ کے خلاف قرارداد منظور کی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فلسطین کے حوالے سے قائم کردہ نام نہاد پیس بورڈ میں پاکستان حکومت کی شمولیت کے خلاف سندھ بھر میں جمعہ نماز کے بعد احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص، نوابشاہ اور دیگر شہروں میں مظاہرین نے جمعہ نماز کے بعدریلیاں اور احتجاج مظاہروں میں حکومتی فیصلے کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور فلسطینی عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطین کے حق میں اور امریکی پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ شہر قائدبعد نماز جمعہ ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے مختلف جامع مساجد کے باہر احتجاج کیا گیا جبکہ خوجا جامع مسجد کھادر کے باہر شہر کے مرکزی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس سے خطاب میں علامہ حیات عباس نجفی نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا نام نہاد پیس بورڈ دراصل مظلوم فلسطینی عوام کی جدوجہد کو کمزور کرنے کی ایک سازش ہے، جس کا مقصد اسرائیلی جارحیت کو تحفظ فراہم کرنا ہے، غزہ ایک کھلی جیل بن چکا تھا، جہاں فلسطینی عوام پر ظلم، نسل کشی اور تباہی مسلط کی گئی، اور ان کی مزاحمت ایک جائز حق ہے، اسرائیلی قیادت، بالخصوص نیتن یاہو، عالمی قوانین کو تسلیم نہیں کرتی اور خطے کے مختلف ممالک پر مسلسل جارحیت جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن کے نام پر پیش کیا جانے والا نیا ’’پیس بورڈ‘‘ درحقیقت فلسطینیوں کو غیر مسلح کرنے اور ان کے حقِ آزادی کو سلب کرنے کی کوشش ہے، پاکستان نے پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لیے بغیر اس عمل میں شمولیت اختیار کرکے اپنی ساکھ اور قومی وقار کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور اسے امت مسلمہ کے جذبات کو مجروح کرنے والے کسی بھی فورم کا حصہ نہیں بننا چاہیئے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لیا جائے اور فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کا تاریخی اور اصولی مؤقف برقرار رکھا جائے، عوامی ریفرنڈم کرایا جائے، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے، اس فیصلے پر تفصیلی بحث کی جائے اور اس نام نہاد پیس بورڈ کے خلاف قرارداد منظور کی جائے، یہ مسئلہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پاکستان، اس کے عوام، دینِ اسلام، غیرت اور قومی حمیت کا معاملہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے عوامی جذبات کا احترام نہ کیا تو احتجاجی تحریک کو مزید وسیع کیا جائے گا۔ احتجاجی مظاہرے میں علامہ مبشر حسن، ناصر الحسینی، فرخ شیرازی، نوشاد علی، حسان زیدی، یاور عباس سمیت دیگر موجود تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نام نہاد پیس بورڈ فلسطین کے جائے اور اس فیصلے کی جائے کے خلاف

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی