ہندوستان-یورپی یونین تجارتی معاہدہ تبدیلی کا ذریعہ ہے، نریندر مودی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا کہ ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کا کامیاب اختتام ایک تاریخی کامیابی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے کو ایک تبدیلی لانے والا قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک کی منڈیوں کا دائرہ وسیع ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ہندوستانی معیشت کے مختلف شعبوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر ملک کی تجارتی موجودگی کو بھی مستحکم کرے گا۔ بھارتی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ مرکزی وزیر پیوش گوئل نے ہندوستان-یورپی یونین تجارتی معاہدے پر ایک مضمون تحریر کیا ہے، جس میں اس سمجھوتے کو مکمل طور پر ترقی یافتہ ہندوستان کے وژن سے ہم آہنگ بتایا گیا ہے۔ بیان کے مطابق یہ معاہدہ طویل مدتی معاشی فائدوں کو سامنے رکھ کر طے کیا جا رہا ہے۔
مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا کہ ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کا کامیاب اختتام ایک تاریخی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کیے گئے بعض معاہدوں کے برعکس اس بار ہندوستان کے مفادات کو مرکز میں رکھا گیا ہے اور کسی قسم کی جلد بازی نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق یہ سمجھوتہ ملک کی معیشت کے اہم شعبوں کو تقویت دے گا اور خوشحالی کو فروغ دے گا۔ پیوش گوئل نے مزید کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت اور دور اندیشی میں طے پانے والے یہ معاہدے ہندوستان کے بنیادی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس سے نہ صرف منڈیوں تک رسائی بڑھے گی بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور مجموعی اقتصادی ترقی کو رفتار ملے گی۔
اس سے قبل کانگریس کی جانب سے اس معاہدے پر تنقید کے جواب میں پیوش گوئل نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ یک طرفہ نہیں بلکہ باہمی فائدے پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ہندوستانی کاروباروں اور شہریوں کے لیے نئے امکانات کھلیں گے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے مطابق یہ معاہدہ ہندوستان اور یورپ کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کا اب تک کا سب سے بڑا آزاد تجارتی معاہدہ ہوگا، جس سے کسانوں، چھوٹے صنعت کاروں، خدماتی شعبے اور مینوفیکچرنگ کو خاص فائدہ پہنچے گا اور ایک خوشحال مستقبل کی بنیاد مضبوط ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تجارتی معاہدے ہندوستان اور یورپی یونین آزاد تجارتی یہ معاہدہ کے درمیان نے کہا کہ کے مطابق
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔