مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا کہ ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کا کامیاب اختتام ایک تاریخی کامیابی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے کو ایک تبدیلی لانے والا قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک کی منڈیوں کا دائرہ وسیع ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ہندوستانی معیشت کے مختلف شعبوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر ملک کی تجارتی موجودگی کو بھی مستحکم کرے گا۔ بھارتی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ مرکزی وزیر پیوش گوئل نے ہندوستان-یورپی یونین تجارتی معاہدے پر ایک مضمون تحریر کیا ہے، جس میں اس سمجھوتے کو مکمل طور پر ترقی یافتہ ہندوستان کے وژن سے ہم آہنگ بتایا گیا ہے۔ بیان کے مطابق یہ معاہدہ طویل مدتی معاشی فائدوں کو سامنے رکھ کر طے کیا جا رہا ہے۔

مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا کہ ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کا کامیاب اختتام ایک تاریخی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کیے گئے بعض معاہدوں کے برعکس اس بار ہندوستان کے مفادات کو مرکز میں رکھا گیا ہے اور کسی قسم کی جلد بازی نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق یہ سمجھوتہ ملک کی معیشت کے اہم شعبوں کو تقویت دے گا اور خوشحالی کو فروغ دے گا۔ پیوش گوئل نے مزید کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت اور دور اندیشی میں طے پانے والے یہ معاہدے ہندوستان کے بنیادی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس سے نہ صرف منڈیوں تک رسائی بڑھے گی بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور مجموعی اقتصادی ترقی کو رفتار ملے گی۔

اس سے قبل کانگریس کی جانب سے اس معاہدے پر تنقید کے جواب میں پیوش گوئل نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ یک طرفہ نہیں بلکہ باہمی فائدے پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ہندوستانی کاروباروں اور شہریوں کے لیے نئے امکانات کھلیں گے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے مطابق یہ معاہدہ ہندوستان اور یورپ کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کا اب تک کا سب سے بڑا آزاد تجارتی معاہدہ ہوگا، جس سے کسانوں، چھوٹے صنعت کاروں، خدماتی شعبے اور مینوفیکچرنگ کو خاص فائدہ پہنچے گا اور ایک خوشحال مستقبل کی بنیاد مضبوط ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تجارتی معاہدے ہندوستان اور یورپی یونین آزاد تجارتی یہ معاہدہ کے درمیان نے کہا کہ کے مطابق

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی