عوامی سروے: بنگلہ دیش کے اگلے وزیراعظم کے لیے اکثریت نے کس کا نام لیا؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش کے تقریباً نصف ووٹرز سمجھتے ہیں کہ مرحومہ خالدہ ضیا کے صاحبزادے اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان مستقبل میں ملک کے وزیراعظم بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین مقرر
یہ نتائج نجی کنسلٹنگ فرم ’انوویشن کنسلٹنگ‘ کے تیسرے راؤنڈ کے پیپلز الیکشن پلس سروے میں سامنے آئے ہیں۔
سروے کے مطابق 47.
سروے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی وابستگیاں تبدیل ہو رہی ہیں اور وہ ووٹرز جو پہلے جماعت اسلامی یا نیشنل سٹیزن پارٹی کی حمایت کرتے تھے اب بی این پی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
خاص طور پر عوامی لیگ کے سابقہ حمایتیوں میں سے بھی کئی بی این پی کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
سروے میں بتایا گیا کہ 22.5 فیصد شرکا نے جماعت اسلامی کے چیئرمین شفیق الرحمان کو وزیر اعظم کے طور پر جبکہ 2.7 فیصد نے ناہید اسلام کا نام لیا۔ تقریباً 22.2 فیصد ووٹرز ابھی فیصلہ نہیں کر سکے۔
مزید پڑھیے: خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے طارق رحمان کو چیئرمین مقرر کر دیا
سروے 16 تا 27 جنوری کے دوران ملک کے 64 اضلاع کے شہری اور دیہی علاقوں میں 5,147 انٹرویوز کے ذریعے کیا گیا۔ شرکا سے ووٹر ٹرن آؤٹ، ریفرنڈم سے آگاہی، قانون و انتظام، انتخابات کی غیرجانبداری، ووٹنگ کے ارادے اور پارٹی کی ترجیحات کے بارے میں سوالات کیے گئے۔
اگر فوری انتخابات کرائے جائیں تو 52.9 فیصد شرکا نے کہا کہ ان کے علاقوں میں بی این پی کے امیدوار جیتیں گے جو پچھلے سروے کے مقابلے میں 7.5 فیصد کا اضافہ ہے۔ جماعت اسلامی کی حمایت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ سابقہ عوامی لیگ ووٹرز میں سے 32.9 فیصد اب BNP کی حمایت کر سکتے ہیں، جبکہ 13.2 فیصد جماعت اسلامی کی حمایت کر سکتے ہیں۔ تقریباً 41 فیصد ووٹرز ابھی فیصلہ نہیں کر سکے۔
سروے نے آئندہ آئینی اصلاحات کے ریفرنڈم کو بھی کور کیا، جو عام انتخابات کے ساتھ شیڈول ہے۔ تقریباً 60 فیصد شرکاء نے ریفرنڈم میں “ہاں” ووٹ دینے کا کہا، جبکہ 22 فیصد اس سے لاعلم تھے۔
مزید پڑھیں: بی این پی کا پہلا انتخابی جلسہ، طارق رحمان کی قیادت میں ‘جمہوری اور خوشحال بنگلہ دیش’ کا وعدہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج BNP کے لیے بڑھتی حمایت اور سیاسی عدم استحکام کے درمیان ملک میں سیاسی لچک اور طاقت کے نئے توازن کی عکاسی کرتے ہیں، جو بنگلہ دیش کے تیرہویں پارلیمانی انتخابات کے قریب اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بنگلہ دیش کا اگلا وزیراعظم بی این پی طارق رحمان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بی این پی جماعت اسلامی بنگلہ دیش فیصد شرکا بی این پی کی حمایت
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔