جماعت اسلامی کا بھارتی سرحد کے ساتھ فینی میں ڈیم تعمیر کرنے کا وعدہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمان نے بھارتی سرحد کے قریب فینی میں ڈیم تعمیر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعتِ اسلامی کا مقصد بدعنوانی اور ناقص طرز حکمرانی سے پاک بنگلہ دیش کی تشکیل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتخابی مہم کے دوران تصادم، جماعتِ اسلامی کے سینیئر رہنما جاں بحق
وہ جمعے کو نوکھالی ضلع اسکول گراؤنڈ میں 11 جماعتی انتخابی اتحاد کے عوامی جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے ووٹرز سے ’ہاں‘ کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ ووٹ دراصل آزادی کے حق میں ووٹ ہے۔
انہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ باہمی اختلافات بھلا کر اتحاد کے لیے متحد ہو جائیں اور جماعت اسلامی کا انتخابی نشان اتحاد کے امیدواروں کو دیے گئے نشانات میں نمایاں طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
جلسے کی صدارت جماعت اسلامی کے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن اور نوکھالی ضلع امیر اسحاق خاندکر نے کی۔
اس موقعے پر جماعت کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اور نیشنل الیکشن اسٹیئرنگ کمیٹی کے چیئرمین مولانا اے ٹی ایم معصوم سمیت 11 جماعتی اتحاد کے سینئر رہنما بھی موجود تھے۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ کم تنخواہوں کے باعث کئی سرکاری ملازمین بدعنوانی کی طرف مائل ہوتے ہیں تاہم مستقبل میں جماعتِ اسلامی کی حکومت پے کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں منصفانہ تنخواہوں کو یقینی بنائے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور عوامی اعتماد کے غلط استعمال یا بھتہ خوری کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
علاقائی ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بھارتی سرحد سے ملحقہ کمپانی گنج کے علاقے میں دریائے فینی پر کلوزر ڈیم تعمیر کرنے کا اعلان کیا جس کا مقصد پانی کے بہتر انتظام اور کٹاؤ کے مسائل پر قابو پانا ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان بنگلہ دیش تعلقات میں بہتری، ڈھاکا اور کراچی کے درمیان براہِ راست پروازیں 14 سال بعد بحال
انہوں نے ہاتیا، کمپانی گنج اور سبُرنچر میں دریائی کٹاؤ کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کا بھی وعدہ کیا۔
جماعت اسلامی کے امیر نے اعلان کیا کہ نوکھالی کو الگ انتظامی ڈویژن بنایا جائے گا اور شہر کو سٹی کارپوریشن کا درجہ دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ سوناپور سے ہاتیا چیئرمین گھاٹ تک ریلوے لائن بچھانے اور سبُرنچر کو میونسپلٹی کا درجہ دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی سب سے زیادہ مظلوم سیاسی جماعت رہی ہے جس کے دفاتر بند کیے گئے اور رہنماؤں کے گھروں کو ماضی میں مسمار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت کے رہنما نہ تو بھتہ خوری میں ملوث ہیں اور نہ ہی زمینوں پر قبضے یا جھوٹے مقدمات میں اور آئندہ بھی ایسی کسی عمل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے زیادہ تر امیدواروں کی عمر 45 سال سے کم ہے جو ایک نوجوان قیادت پر مبنی مستقبل کی علامت ہے۔
ان کے مطابق خواتین اور نوجوان اب بخوبی سمجھتے ہیں کہ کون ان کے تحفظ اور وقار کو یقینی بنا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کو فاشسٹ طرز سیاست سے نکالنا ضروری، جماعت اسلامی
خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے وعدہ کیا کہ اگر جماعت اسلامی کو خدمت کا موقع ملا تو وہ عوام کے اعتماد پر پورا اترے گی اور ملک بھر میں بلاامتیاز انصاف اور ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش جماعت اسلامی بنگلہ دیش فینی میں ڈیم تعمیر کرنے کا اعلان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش جماعت اسلامی بنگلہ دیش فینی میں ڈیم تعمیر کرنے کا اعلان
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔