چین: بلاگر نے سِم کارڈز سے بھاری مالیت کا سونا اکٹھا کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
چین سے تعلق رکھنے والے ایک بلاگر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سِم کارڈ چپس اور دیگر برقی آلات سے 191.73 گرام سونا حاصل کر لیا۔
صوبہ گوانگ ڈونگ سے تعلق رکھنے والے بلاگر نے بتایا کہ اس نے اسٹرانگ ایسڈ ڈِسولوشن اور الیکٹرولائٹک ری ڈکشن جیسے متعدد پیچیدہ طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے یہ سونا جمع کیا۔
بلاگر نے اس طریقے کی ویڈیو بھی شیئر کی جس کا نام ’سِم الکیمی‘ پروسیس رکھا۔ جس کو دیکھ کر ناظرین بھی سونا حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وائرل ویڈیو پر ایک صارف نے کمنٹ کیا کہ دس سال تک کام کرنا اتنا اچھا نہیں جتنا کباڑ اکٹھا کرنا ہے۔ صارف نے بلاگر سے یہ طریقہ سیکھنے کے لیے خود کو شاگردی میں لینے کی بھی درخواست کی۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ سِم چپس کو سونا بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، یہ انہوں نے کبھی نہیں سنا تھا۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا تھا کہ سِم کارڈز میں صرف 0.
اس حوالے سے صفائی دیتے ہوئے بلاگر کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف سِم کارڈز نہیں بلکہ دیگر مواصلاتی برقی آلات میں موجود سونا چڑھی چپس بھی استعمال کیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔