غزہ میں ایک اور صلاح الدین ایوبی؛ پاکستانی اے آئی سے بنی پہلی فلم کی نمائش
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
گزشتہ ہفتے شاندار اور ہاؤس فل پریمیئر کے بعد پاکستان کی پہلی مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی فیچر فلم ’’دی نیکسٹ صلاح الدین‘‘ جمعے کو ملک بھر کے سینما گھروں میں ریلیز کردی گئی۔
یہ فلم استاد عاصم اسماعیل کے تصور پر مبنی ہے جب کہ اس کے تخلیق کار اور مصنف فرحان صدیقی ہیں۔
فلم اندسٹری میں انقلاب برپا کردینے والی جدید اے آئی فلم سازی سے ایک مؤثر، فکر انگیز اور مداحوں کو سحر میں مبتلا کردینے والے اسلام کی ایک نامور جری اور بہادر شخص کو پیش کیا گیا ہے۔
یہ مسلمانوں کی دلیرانہ تاریخ اور غزہ کے پائیدار اور لازوال جذبۂ مزاحمت سے متاثر ہو کر تیار کی گئی یہ کہانی ایک جرات مندانہ سوال اٹھاتی ہے کہ جب ناانصافی مسلسل قائم رہے، تو کیا تاریخ ایک اور صلاح الدین کو جنم دے سکتی ہے؟
فلم ایک ایسے معاشرے کی عکاسی کرتی ہے جو جبر کے خلاف کھڑا ہوتا ہے اور بہادری، اتحاد اور اصولی قیادت کے ساتھ فتح حاصل کرتا ہے۔
یہ فلم کسی بھی قسم کے تصادم کو ہوا دیے بغیر امید، انصاف اور ایمان کا مضبوط اور مثبت پیغام پیش کرتی ہے۔
فلم کی نمایاں خصوصیات میں اس کی اے آئی سے تیاری، شاندار بصری مناظر، دل کو چھو لینے والی کہانی اور گہری جذباتی تاثیر شامل ہیں۔
پریمیئر کے بعد عوام کی جانب سے ملنے والی زبردست پذیرائی کے باعث ’’دی نیکسٹ صلاح الدین‘‘ پاکستان بھر کے ناظرین کے لیے ایک انقلابی سینما تجربہ ثابت ہونے جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صلاح الدین
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔