پرفیوم چوری: پولیس کو طویل عرصہ چکمہ دینے والی خاتون کو عدالت کی منفرد سزا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن: انگلینڈ اور ویلز میں دکانوں سے قیمتی پرفیوم چوری کرنے والی ایک خاتون کو عدالت نے ایک منفرد اور غیر معمولی سزا سنا دی ہے، جس کے تحت اس پر مشہور ریٹیل چین جان لیوس کے تمام اسٹورز میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق 27 سالہ اگیتا سیکا ایک سال سے زائد عرصے تک مختلف حلیوں میں دکانوں سے ہزاروں پاؤنڈ مالیت کے پرفیوم چرا کر فرار ہوتی رہی۔ پہلی مرتبہ انہیں اگست 2024 میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب مانچسٹر کے علاقے چیڈل میں ایک اسٹور کے عملے نے انہیں ڈیزائنر پرفیوم لے کر خاموشی سے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھ لیا۔ اس واقعے کے بعد انہیں عدالت میں پیش ہونا تھا، تاہم وہ مقررہ تاریخ پر پیش نہ ہوئیں اور روپوش ہو گئیں۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق اگیتا سیکا نے گرفتاری سے بچنے کے لیے بارہا اپنا حلیہ بدلا اور مختلف علاقوں میں خود کو چھپاتی رہیں، یہاں تک کہ نومبر 2025 میں انہوں نے نارتھنبریا پولیس کے سامنے خود کو پیش کیا۔ بعد ازاں نیوکاسل کی مجسٹریٹ عدالت میں انہوں نے 4 الزامات کا اعتراف کیا، جن میں 3 ماہ کے مختصر عرصے میں 2400 پاؤنڈ سے زائد مالیت کی اشیا چوری کرنے کا جرم شامل تھا۔
عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران قرار دیا کہ خاتون کا طرزِ عمل وقتی یا حادثاتی نہیں بلکہ منظم، دانستہ اور مسلسل نوعیت کا تھا۔ اسی بنیاد پر انہیں مجرمانہ رویے کی سزا سنائی گئی، جس کے تحت ایک سال کے لیے مخصوص بڑے اسٹورز میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکا جا سکے۔
مانچسٹر پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ دکانوں سے چوری کو معمولی جرم سمجھنا درست نہیں، کیونکہ اس سے نہ صرف کاروباری اداروں کو مالی نقصان پہنچتا ہے بلکہ اسٹور کے عملے پر بھی نفسیاتی دباؤ پڑتا ہے۔ پولیس کے مطابق ایسے جرائم کا بالآخر اثر ایماندار صارفین پر پڑتا ہے، کیونکہ نقصانات پورے کرنے کے لیے قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔