گرینڈ الائنس کیساتھ مذاکرات کیلئے تیار، اگلے مالی سال پر بات ہو سکتی ہے، سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
بارکھان میں تقریب کے دوران سرفراز بگٹی نے کہا کہ گرینڈ الائنس والے ہمارے بھائی ہیں۔ کوئی بھی حکومت اپنے ہی عوام کو مشکلات میں ڈالنا یا جیل بھیجنا نہیں چاہتی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ گرینڈ الائنس کے لئے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، تاہم حکومت کے پاس اضافی فنڈز موجود نہیں، آئندہ چھ ماہ میں مالی گنجائش موجود نہیں ہے۔ اگلے مالی سال کے لئے ان پر بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ بارکھان میں تقریب کے دوران بلوچستان میں احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین کے لئے اپنے پیغام میں سرفراز بگٹی نے کہا کہ گرینڈ الائنس والے ہمارے بھائی ہیں۔ کوئی بھی حکومت اپنے ہی عوام کو مشکلات میں ڈالنا یا جیل بھیجنا نہیں چاہتی، تاہم آئین کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان گرینڈ الائنس سے مذاکرات کے مطالبے پر جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئین حکومت کو عام شہریوں، خصوصاً بے روزگار اور بنیادی سہولیات سے محروم افراد کو ریلیف فراہم کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وسائل کا ایک بڑا حصہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ ہو جاتا ہے، جبکہ حکومت پر تعلیم، صحت، سڑکوں اور سماجی بہبود جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔
سرفراز بگٹی نے کہا ہماری کوشش ہے کہ بچت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عام شہری کے لیے کچھ مؤثر کیا جا سکے۔ بلوچستان کے عوام ہمارے اپنے بچوں کی مانند ہیں۔ صوبائی حکومت ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہی ہے اور آئندہ بھی بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے صوبے کو درپیش شدید مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے پاس اضافی فنڈز موجود نہیں ہیں۔ سرکاری ملازمین کو پہلے ہی 10 فیصد تنخواہ میں اضافہ دیا جا چکا ہے اور آئندہ چھ ماہ کے دوران مزید مالی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے کہا اگلے مالی سال میں ہم بیٹھ کر ان معاملات پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ سرفراز بگٹی نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں اور سڑکوں کی بندش یا عوامی زندگی میں خلل ڈالنے سے گریز کریں۔ اساتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا آپ کا فرض تدریس ہے، سڑکیں بند نہ کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سرفراز بگٹی نے گرینڈ الائنس موجود نہیں نے کہا کہ کے لئے
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔