پنجاب حکومت کا شب برات پر عام تعطیل کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: پنجاب حکومت نے شبِ برات کے موقع پر (بدھ 4 فروری کو) صوبے بھر میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب حکومت کے انتظامی کنٹرول میں آنے والے تمام سرکاری دفاتر، خودمختار اور نیم خودمختار ادارے، سرکاری کارپوریشنز، لوکل کونسلز اور تمام سرکاری و نیم سرکاری تعلیمی ادارے مذکورہ تاریخ کو بند رہیں گے۔ تعطیل کا اطلاق صوبے کے تمام اضلاع پر یکساں طور پر ہوگا تاکہ شہری بلا رکاوٹ مذہبی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
محکمہ اوقاف اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ مساجد، درگاہوں اور قبرستانوں میں ممکنہ رش کے پیشِ نظر مناسب انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق تعطیل کے اعلان کے بعد شہریوں میں خوشی کی لہر دیکھی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے انہیں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ شبِ برات کی مذہبی روایات ادا کرنے کا بھرپور موقع ملے گا،شہری اس رات نوافل، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور مرحومین کی قبروں پر حاضری دیتے ہیں۔
ہزارہ ایکسپریس کی 2بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں
ڈائریکٹر جنرل (پبلک ریلیشنز) لاہور کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس نوٹیفکیشن کو قومی اور علاقائی سطح کے بڑے انگریزی اور اردو اخبارات میں شائع کروایا جائے اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اس کی وسیع پیمانے پر تشہیر کو یقینی بنایا جائے، تاکہ عوام بروقت اس فیصلے سے آگاہ ہو سکیں۔
پنجاب حکومت کے اس اقدام کو عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ انتظامیہ اس موقع پر سیکیورٹی اور ٹریفک کے خصوصی انتظامات بھی کرے گی تاکہ شبِ برات پُرامن اور عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا سکے۔
بلوچستان میں زلزلہ،لوگوں میں خوف و ہراس
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پنجاب حکومت
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز