اسحاق ڈار کی زیر صدارت اعلی سطح کا بین وزارتی اجلاس، پاک یورپی یونین کے تجارتی تعلقات مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اسحاق ڈار کی زیر صدارت اعلی سطح کا بین وزارتی اجلاس، پاک یورپی یونین کے تجارتی تعلقات مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال WhatsAppFacebookTwitter 0 30 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت اعلی سطح کا بین وزارتی اجلاس ہوا جس دوران پاک یورپی یونین کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات مضبوط بنانے اور نئے مواقع تلاش کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں پاک یورپی یونین کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور تجارتی و اقتصادی تعاون بڑھانے کے نئے مواقع تلاش کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ جی ایس پی پلس باہمی طور پر فائدہ مند تجارت کیلئے ایک اہم فریم ورک ہے اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کیلئے صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا ضروری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت ایس اے پی ایم طارق باجوہ، سیکرٹری خارجہ امور ایم بی، آمنہ بلوچ، کامرس، انسانی حقوق اور انسانی وسائل کے سیکرٹریز، اور متعلقہ صوبائی و وفاقی محکموں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحکومت نے پی آئی اے کے بعد اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری ترجیح قرار دیدی حکومت نے پی آئی اے کے بعد اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری ترجیح قرار دیدی ماں بیٹی کی مین ہول میں گر کر ہلاکت کو فیک نیوز کہنے پروزیر اطلاعات عظمی بخاری کیخلاف مقدمے کی درخواست ایمان مزاری ٹوئٹس کیس کا فیصلہ، عدالت کا ایران و دیگر ممالک سے متعلق پیراگراف حذف کرنے کا حکم وزیراعظم شہباز شریف سے آذربائیجان کے صدر کے خصوصی نمائندے کی ملاقات ترک اور ایرانی صدور میں ٹیلیفونک رابطہ، خطے میں بڑھتے فوجی تناو پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا میں نیپا وائرس پھیلنے کا خدشہ، محکمہ صحت ہائی الرٹCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاک یورپی یونین کے پر تبادلہ خیال تجارتی تعلقات اسحاق ڈار
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔