سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، تمام اسکولوں میں طالبات کو مفت سینیٹری پیڈ فراہم کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
بھارتی سپریم کورٹ نے اہم اور دور رس فیصلہ سناتے ہوئے ملک بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں طالبات کو مفت سینیٹری پیڈ فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
مزید پڑھیں: ایام حیض کی ‘غربت’ لڑکیوں کی تعلیم کیسے متاثر کرتی ہے؟
جسٹس جے بی پردیوالا اور جسٹس آر مہادیون کے ڈبل بینچ نے کہا کہ حیض سے متعلق صحت کا حق، حقِ زندگی کا لازمی حصہ ہے اور ریاست اس سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ عدالت نے ریاستوں کو اسکولوں میں طالبات کے لیے علیحدہ بیت الخلا اور معذور افراد کے لیے موزوں سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی۔
سپریم کورٹ نے سختی سے کہا کہ نجی اسکول ہدایات پر عمل نہ کریں تو ان کی منظوری منسوخ کی جا سکتی ہے، اور حکومتیں اگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہیں تو جواب دہ ٹھہریں گی۔
مزید پڑھیں: چُپ کی عمر: دیہی خواتین اور سن یاس کے گرد پھیلی خاموشی
عدالت نے دیہی و شہری اسکولوں میں مینسٹرول ہائیجین مینجمنٹ کارنرز قائم کرنے کا بھی حکم دیا تاکہ طالبات کو محفوظ اور باوقار ماحول میسر ہو۔ یہ حکم جیا ٹھاکر کی دائر کردہ عوامی مفاد کی عرضی پر دیا گیا، جس میں ملک بھر میں اسکول جانے والی لڑکیوں کے لیے حیض سے متعلق حفظانِ صحت پالیسی نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سپریم کورٹ سینیٹری پیڈ طالبات مفت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی سپریم کورٹ سینیٹری پیڈ طالبات مفت اسکولوں میں سپریم کورٹ فراہم کرنے کے لیے
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟