پیوٹن سے ٹرمپ کی درخواست: یکم فروری تک کیف پر حملے روک دیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے درخواست کی ہے کہ یکم فروری تک کیف پر حملوں سے گریز کیا جائے.
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ذاتی طور پر درخواست کی ہے کہ یکم فروری تک کیف پر حملوں سے گریز کیا جائے تاکہ مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔
پیسکوف کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک ہفتے کے لیے حملے روکنے کی اپیل کی، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ روس نے اس تجویز پر کوئی باضابطہ جواب دیا ہے یا نہیں، ان کا کہنا تھا کہ س حوالے سے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا جو پہلے بیان کر چکا ہوں۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے سرد موسم کے باعث روسی صدر سے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر حملے عارضی طور پر روکنے کی درخواست کی تھی، جس پر روسی قیادت نے آمادگی ظاہر کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔