پیوٹن سے ٹرمپ کی درخواست: یکم فروری تک کیف پر حملے روک دیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے درخواست کی ہے کہ یکم فروری تک کیف پر حملوں سے گریز کیا جائے.
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ذاتی طور پر درخواست کی ہے کہ یکم فروری تک کیف پر حملوں سے گریز کیا جائے تاکہ مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔
پیسکوف کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک ہفتے کے لیے حملے روکنے کی اپیل کی، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ روس نے اس تجویز پر کوئی باضابطہ جواب دیا ہے یا نہیں، ان کا کہنا تھا کہ س حوالے سے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا جو پہلے بیان کر چکا ہوں۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے سرد موسم کے باعث روسی صدر سے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر حملے عارضی طور پر روکنے کی درخواست کی تھی، جس پر روسی قیادت نے آمادگی ظاہر کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔