جنوبی افریقا کا اسرائیلی سفارتکار کو 72 گھنٹے میں ملک سے نکل جانے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
جنوبی افریقا نے اسرائیل کے اعلیٰ سفارتکار آریل سیڈمین کو اپنے ملک کے لیے ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے 72 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس فیصلے کا اعلان آج ہی جنوبی افریقا کی وزارتِ خارجہ نے اپنے جاری کردہ خصوصی بیان میں کیا۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ سخت قدم ایسے غیرمعمولی اور ناقابل قبول واقعات کے بعد اٹھایا گیا جنھوں نے دوطرفہ سفارتی اصولوں اور جنوبی افریقا کی خودمختاری کو نقصان پہنچایا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی سفارت کار آریل سیڈمین نے سرکاری اسرائیلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جنوبی افریقا کے صدر سِریل راما فوسا پر توہین آمیز تبصرے کیے تھے۔
آریل سیڈمین نے اپنے حکام بالا کو بھی جنوبی افریقا کے دوروں سے متعلق اطلاع نہیں دی تھی جسے سفارتی آداب کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مذکورہ اسرائیلی سفارت کار نے اعتماد اور بنیادی سفارتی پروٹوکول کو نقصان پہنچایا اور ویانا کنونشن کے اصولوں کی خلاف ورزی کی۔
جنوبی افریقا نے اسرائیلی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ آئندہ سفارتی رویے میں احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائے۔
جس کے جواب میں اسرائیل نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی افریقا کے سفارتکار شاہان ایڈورڈ بائنیویلڈٹ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا۔
یاد رہے کہ ان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پہلے سے کافی شدید کشیدگی موجود ہے جو جنوبی افریقا کی عدالتِ بین الاقوامی انصاف میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات اور غزہ میں جاری تنازع کے تناظر میں مزید بڑھ گئی ہیں۔
جنوبی افریقا طویل عرصے سے فلسطینی عوام کی حمایت کرتا آیا ہے جب کہ اسرائیل ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جنوبی افریقا
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔