پی ٹی آئی قیادت کو بولڈ فیصلے کرنے ہوں گے، نہیں کرسکتے تو عہدہ چھوڑ دیں، علی محمد خان
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاسی قیادت کو بولڈ فیصلے کرنے ہوں گے اور اگر کوئی فیصلہ کن قدم نہیں اٹھا سکتا تو پھر عہدہ چھوڑ دے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ‘سینٹر اسٹیج’ میں گفتگو کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا کہ ہمیں سچی بات کرنی چاہیے، ہلکے پھلکے اقدامات سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی راہ ہموار نہیں ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ حل کا راستہ صرف سیاسی ڈائیلاگ میں ہی ہے یا تو پھر ملک بھر میں بھر پور پرامن احتجاج کریں تاکہ حکومت بانی پی ٹی آئی کی رہائی پر مجبور ہو جائے۔
پارٹی قیادت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی فیصلہ کن قدم نہیں اٹھا سکتا تو پھر عہدہ چھوڑ دے، ہمیں حکومت سے دو ٹوک بات کرنی ہے، ہمیں بانی پی ٹی آئی کو بھٹو نہیں بنانا، ہمیں وہ زندہ باہرچاہئیں۔
ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے خود مجھے سیاسی کمیٹی میں ڈالا تھا لیکن موجودہ قیادت نے مجھے کمیٹی سے نکال دیا، میں پھر بھی نئی لیڈر شپ اور کمیٹی اراکین کو سپورٹ کرتا ہوں۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو کوئی عارضہ لاحق ہے تو ڈاکٹروں سے ملنے دیں، ڈاکٹر فیصل سلطان یا شوکت خانم کی ٹیم کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوجانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ شوکت خانم کے ڈاکٹرز کا ٹریک ریکارڈ ہے، ان ڈاکٹروں نے خود کو میڈیکل معاملات تک محدود رکھا ہے، سیاسی بات کبھی نہیں کی، ڈاکٹر صاحبان کو ملاقات کی اجازت دی جائے تو یہ معمہ حل ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ریلیف ملنے کی امید کرتے ہیں، ہمیں بانی سے ملاقات کی رسائی دی جائے۔
علی محمد خان نے کہا کہ چیف جسٹس سے سلمان اکرم راجا کی ملاقات ہونا خوش آئند ہے، ملاقات صبح ہی ہو جانی چاہیے تھی ان سے ملاقات دیر سے ہوئی لیکن اچھی بات ہے کہ خیر سے ملاقات ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ میں پرامید ہوں کہ ڈاکٹر صاحبان سے بانی پی ٹی آئی کی ملاقات ہو جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی علی محمد خان پی ٹی آئی کی ملاقات ہو سے ملاقات
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔