خیرپور،ڈی سی نے پولیو کے خاتمے کی مہم کا افتتاح کردیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خیرپور (جسارت نیوز ) ڈپٹی کمشنر خیرپور الطاف احمد چاچڑ نے سول اسپتال خیرپور میں پولیو کے خاتمے کی مہم کا باضابطہ افتتاح کیا، جو 2 فروری سے 5 فروری 2026ء تک جاری رہے گی۔ افتتاحی تقریب کے دوران بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔تقریب میں ڈپٹی کمشنر خیرپور الطاف احمد چاچڑ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مسرور الحسن شاہ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مشتاق علی بھنبھرو، ڈاکٹر امان اللہ جماںی، ڈاکٹر امتیاز وسان، این اسٹاف آفیسر ڈاکٹر اشرف علی لاکو، ڈاکٹر جمیل پنہیار، ڈاکٹر کرم عباس سولنگی، ڈاکٹر صافی اللہ مہسر، ڈاکٹر عمران الٰہی، ڈاکٹر نائلہ کے علاوہ لیڈی ہیلتھ سپروائزرز، ہیلتھ ورکرز، سوشل ورکرز اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر بتایا گیا کہ پولیو مہم 2 فروری سے 5 فروری تک جاری رہے گی، جس کے دوران ضلع خیرپور کی 76 یونین کونسلوں میں 5 لاکھ 93 ہزار 632 بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مہم کے لیے 148 فکسڈ سینٹرز، 39 ٹرانزٹ ٹیمیں اور 1878 موبائل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جبکہ 407 ایریا انچارجز بھی مقرر کیے گئے ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر الطاف احمد چاچڑ نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک اور موذی مرض ہے، جس سے بچاؤ صرف پولیو کے قطرے پلانے سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں ہے اور ہر بچے تک پہنچنے کے لیے موبائل، فکسڈ اور ٹرانزٹ ٹیموں کو فعال کر دیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے والدین، اساتذہ، علما کرام اور سماجی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ پولیو مہم کے دوران محکمہ صحت کی ٹیموں سے مکمل تعاون کریں تاکہ ضلع خیرپور کو پولیو فری بنایا جا سکے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مسرور الحسن شاہ نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں اور والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا فیسر ڈاکٹر ڈپٹی کمشنر پولیو کے کو پولیو کے قطرے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔