data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سوال: آپ کا ادارہ کیا خدمات فراہم کرتا ہے؟
جواب: گروسیف پرائیویٹ لمیٹڈ صحت، حفاظت، ماحولیات اور آگ سے حفاظت سے متعلق ہر قسم کی خدمات فراہم کرنے والا پاکستان کا معروف ادارہ ہے۔ بین الاقوامی معیارات سے تصدیق شدہ ISO سرٹیفائڈ ہونے کے علاوہ گروسیف کو جرمنی کے آفیشل ادارے جی آئی زی نے مذکورہ شعبے میں اپنا سفیر بھی نامزد کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہم کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور پاکستان بزنس فورم کے رکن بھی ہیں۔
مزید تفصیل میں بات کی جائے تو گروسیف فائر لوڈ کیلکولیشن، فائر رسک اسسمنٹ، فائر سیفٹی ٹریننگ کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے فائر فائٹنگ سولوشنز فراہم کرتا ہے، مثلاً فائر ہائیڈرنٹ سسٹم ، فائر سپریشن سسٹم ، فائر سپرنکلر سسٹم ، فائر الارم پینل ، موبائل فائر فائٹنگ سسٹم، فائر بلینکٹس، پورٹیبل فائر ایکسٹنگویشرز، فائر بالز، آٹومیٹک فائر ایکسٹنگویشرز، فائر سوٹ، سیلف کنٹینڈ بریتھنگ اپیریٹس، اور فائرمین کٹس۔ اس کے ساتھ ساتھ ادارے کے انتہائی ماہر، تربیت یافتہ اور تجربہ کار پروفیشنلز کیمیکل اور الیکٹریکل سیفٹی کو بھی یقینی بناتے ہیں۔

سوال: آپ کے خیال میں گل پلازہ میں لگنے والی آگ کی بنیادی وجہ کیا تھی؟
جواب: آگ لگنے کی بنیادی وجہ اگنیشن سورس ہی بنتی ہے ، ایندھن کو توانائی پہنچانے والی اگنیشن سورسز کی نشاندہی کے لیے فائر لوڈ کیلکولیشن یعنی آگ کے ایندھن بننے والے اجزا کی مقدار اور حجم کا درست تناسب کرنا نیز فائر رسک اسسمنٹ یعنی آگ لگنے کی ممکنات اور اسکی شدت کا جائزہ لے کر اس سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات کرنا انتہائی ضروری عمل ہے۔ بد قسمتی سے گل پلازہ میں ایسا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔
بہت سے آتش گیر مادے مثلاً آئیسو پرو پائل الکوحل اور فوس فین جیسے کیمیکلز عام دکانوں پر موجود ہوتے ہیں، ان کے خطرات کا اندازہ تب ہی لگایا جا سکتا ہے جب رسک اسسمنٹ اور فائر لوڈ کیلکولیشن کیے جائیں۔ اِسی طرح برقی خطرات اور اُن سے حفاظت کے بھرپور انتظامات بھی لازمی ہیں۔ اگر کوئی ایک وجہ بیان کی جائے تو مشترکہ طور پر پلازہ کی انتظامیہ اور ریگولیٹری فریم ورک کی کمزوری کے باعث اس قسم کے حادثے جنم لیتے ہیں۔

سوال: گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے مختصر وقت میں پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا، کیا وہاں کسی تخریب کاری کا بھی کوئی امکان موجود ہے؟
جواب: اس سے بڑی تخریب کاری اور کیا ہوگی کہ جب متعلقہ ذمداران کو معلوم ہے کہ کراچی میں یومیہ چھ اور سالانہ 2 ہزار سے زائد آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں جن کا تناسب سردی کے موسم میں اور زیادہ بڑھ جاتا ہے اور ان 2ہزار سے زائد سالانہ آگ لگنے کے واقعات میں سے 33فیصد کا تعلق شاپنگ مالز، سپر مارکیٹس اور کمرشل بلڈنگز سے ہے، اُس کے باوجود بھی کوئی خاطر خواہ انتظام نا ہونا بذات خود ایک تخریبی عمل ہے۔ یہ جاننے کے باوجود بھی کہ کراچی میں متعلقہ اداروں کے پاس آگ پر قابو پانے کے انتہائی ناکافی اور ناقص انتظامات ہیں۔
آگ کسی بھی ذریعے سے لگے اگر اسے وافر مقدار میں ایندھن یعنی کپڑا، کاغذ، گتا، لکڑی، فوم، قالین، کارٹن، پلاسٹک اور دیگر جلنے والی چیزیں میسر ہوں تو وہ اتنی ہی تیزی سے پھیلتی ہے، بالفرض آرسن یعنی جان بوجھ کر لگائی جانے والی آگ بھی ہو تب بھی داخلی انتظامات کیوں نہیں کیے گئے؟ اگر گل پلازہ میں آگ بجھانے کے بھرپور انتظامات ہوتے تو یقیناً فائر بریگیڈ اور ریسکیو کے اداروں کے آنے تک آگ کو پہلے درجے تک محدود رکھا جا سکتا تھا۔ جب اندرونی انتظامات نامکمل ہوں تو ایک چھوٹی سی آگ وقت پر نا بجھائے جانے کی وجہ سے دوسرے اور پھر تیسرے درجے کی آگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ وہ جگہ جہاں یومیہ اربوں روپے کا کاروبار ہوتا ہو وہاں اگر چند لاکھ روپے آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر خرچ نہ کیے گئے ہوں تو یہ بجائے خود ایک المیہ ہے۔

سوال: آگ سے بچاؤ کے انتظامات کی زمداری کس ادارے پر عائد ہوتی ہے؟
جواب: دیکھیں سب سے پہلی ذمےداری تو شاپنگ مال کی انتظامیہ کی ہے۔ مالکان قانونی طور پر اس بات کے ذمدار ہیں کے ہر طرح کے خطرے سے حفاظت کا پورا انتظام رکھیں۔ ظاہر ہے کے ملک بھر سے لوگ خریداری کے لیے جس جگہ آتے ہیں وہ جگہ ہر لحاظ سے محفوظ بنانا اس جگہ کی انتظامیہ کی ذمداری ہے۔ پھر اگر انتظامیہ فائر سیفٹی کے اقدامات نہیں لیتی تو اُس کے خلاف قانونی کاروائی کرنے اور تمام ضروری اقدامات پر عمل درآمد کروانے کے لیے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، صوبائی سول ڈیفنس، لیبر ڈیپارٹمنٹ، الیکٹریکل انسپیکٹوریٹ اور ان جیسے دیگر سرکاری ادارے موجود ہیں۔
یہ تمام ادارے اتنے با اختیار ہیں کہ یہ کسی بھی شاپنگ مال کو عملدرآمد نہ کرنے پر جز وقتی یا کل وقتی بنیادوں پر سیل کر سکتے ہیں۔ اِسی طرح ہمارا قانون ضلعی انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنرز کو بھی یہ اختیار دیتا ہے کہ لیبر انسپکٹر کی عدم موجودگی میں ڈپٹی کمشنر اپنی حدود میں آنے والے تجارتی اور صنعتی اداروں میں صحت اور حفاظت کے ناقص انتظامات کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ریگولیٹر کی خاطر خواہ توجہ نہ ہونا سالانہ کھربوں روپے کے مالی اور قیمتی جانی نقصانات کا سبب بنتا ہے۔

سوال: اس پوری صورت حال میں ریسکیو اور آگ بجھانے والے اداروں کا کیا کردار ہے؟
جواب: کوئی بھی ادارہ جو حادثے کے بعد کی صورت حال سے نمٹنے کا ذمےدار ہو، چاہے وہ ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ہو، کے ایم سی کے تحت چلنے والا فائر بریگیڈ کا ادارہ ہو، ریسکیو 1122 ہو یا صوبائی سول ڈیفنس کا ادارہ ہو، یہ سب رد عمل کے طور پر یعنی ریکٹیولی پرفارم کرتے ہیں ۔ ان اداروں کا بنیادی مقصد حادثے کے اثرات کو کم کرنا اور فوری مدد فراہم کرنا ہے۔ اِس فوری مدد کے لئے ان اداروں کے پاس خاطر خواہ انتظامات کا ہونا اور جائے حادثہ پر پہنچ کر بروقت امدادی سرگرمیوں کا آغاز کرنا ہی اصل ذمےداری ہے۔
بین الاقوامی معیار کے مطابق کوئی بھی آگ اگر ابتدائی تین منٹ میں نا بجھائی جائے تو پھر فائر ایکسٹنگویشر سے آگ پر قابو پانا نا صرف ناممکن ہے بلکہ وہ آگ تیسرے درجے کی آگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ پورٹیبل فائر ایکسٹنگویشر یعنی ہاتھ سے پکڑ کر آگ بجھانے والا سلنڈر ایک گھریلو ڈسٹ بن کے حجم کی آگ بجھانے کے لیے کافی ہے۔ اگر آگ کا حجم اس سے زیادہ ہو تو آگ بجھانے کے بجائے وہاں سے با حفاظت اخراج پر توجہ دینی چاہیے۔
ہر ادارے کے پاس اپنا فائر ہائیڈرنٹ سسٹم اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہونا چاہیے، یہ تربیت یافتہ عملہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو کے اداروں کے پہنچنے تک آگ پر قابو پانے کے لیے فائر ہائیڈرنٹ کا استعمال کرتا ہے۔ اسی دوران فائر بریگیڈ کے عملے کو چھ منٹ چوبیس سیکنڈ میں جائے حادثہ پر پہنچ کر آگ بجھانے کی سرگرمی کا آغاز کر دینا چاہیے۔ یہ ایسا اسٹینڈرڈ پروسیجر ہے جس پر پوری دنیا میں عملدرآمد کیا جاتا ہے۔

سوال: کیا کراچی کی آبادی کے حساب سے ہمارے اداروں کے پاس آگ سے نمٹنے کے انتظامات موجود ہیں؟
جواب: این ایف پی اے (نیشنل فائر پروٹیکشن ایسوسی ایشن) کے مطابق ایک لاکھ کی آبادی پر ایک فائر اسٹیشن ہونا چاہیے، ہر فائر اسٹیشن پر چار فائر ٹرک اور ہر فائر ٹرک پر 6تربیت یافتہ افراد پر مشتمل عملہ جن کے پاس ہر قسم کے ضروری ذاتی حفاظت کے آلات موجود ہوں یعنی فائر سوٹ، سیلف کنٹینڈ بریتھنگ ایپریٹس، فائر مین ایکس، لائف لائن، ٹارچ، وائرلیس اور دیگر ضروری آلات۔
کراچی کی آبادی کے حساب سے تین سو فائر اسٹیشنز، بارہ سو فائر ٹرک، سات ہزار دو سو ٹرینڈ عملہ جو آگ بجھانے کی سرگرمی میں حصہ لینے کے قابل ہو اور بیک اپ کے طور پر اتنا ہی عملہ جو فائر اسٹیشنز پر موجود ہو۔ اس وقت کراچی میں دستاویزی اعتبار سے تیس فائر اسٹیشنز ہیں جن میں چھتیس فائر ٹرک اور گیارہ سو افراد پر مشتمل تربیت اور حفاظتی سامان سے محروم عملہ ہے۔ کے ایم سی کے مطابق سالانہ آگ لگنے کے 2 ہزار واقعات رپورٹ ہوتے ہیں یعنی یومیہ تقریباً 6 واقعات، اس سنگین صورت حال میں یہ ناکافی اور ناقص انتظامات ہر قسم کی آگ کو تیسرے درجہ کی آگ میں تبدیل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

سوال: ایک بحث یہ بھی ہے کے ان تمام اداروں میں سے کس ادارے کی کتنی اور کس حد تک ذمداری ہے؟
جواب: دیکھیں جب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کوئی تعمیراتی نقشہ منظور کرتی ہے تو اس وقت اس بات کو مد نظر رکھا جاتا ہے کے اس عمارت کا کس قسم کا استعمال ہونا ہے، ہنگامی اخراج کے کیا انتظامات ہیں، آگ لگنے کی صورت میں باہر نکلنے کے کتنے محفوظ راستے اور دروازے وقف کیے گئے ہیں، بلڈنگ میٹریل کتنا پائیدار ہے اور آگ کو سست کرنے یا محدود رکھنے میں کتنا مددگار ہوگا؟ اِسی طرح کوریڈورز کی چوڑائی اور ہنگامی سیڑھیاں موجود ہیں یا نہیں، فائر فائٹنگ کے لیے اضافی پانی کا ٹینک بنایا گیا ہے یا نہیں؟ یہ وہ بنیادی انتظامات ہیں جو SBCA دیکھتی ہے، پہلے سے تعمیر شدہ عمارتوں کا معائنہ کرنا، بلڈنگ اسٹیبلٹی سرٹیفکیٹ یعنی پائیداری کی سند دینا یا ناپائیدار ہونے کی صورت میں عمارت کو سیل کرنے کا اختیار بھی اسی ادارے کے پاس ہے۔
صوبائی سول ڈیفنس کا بنیادی کام عمارتوں کا دورہ کر کے یہ بات یقینی بنانا ہے کہ آگ بجھانے اور ابتدائی طبی امداد کے ضروری انتظامات ہیں یا نہیں؟ اگر سارے انتظامات ہیں، عملہ بھی تربیت یافتہ ہے اور باقاعدگی سے ہنگامی انخلا ڈرلز بھی ہو رہی ہیں تو ایسی صورت میں سول ڈیفنس، سرٹیفکیٹ آف کمپلائنس یعنی تعمیل کی سند فراہم کرتا ہے بصورت دیگر عمارت کو سیل کیا جاسکتا ہے۔
لیبر ڈیپارٹمنٹ کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تربیت یافتہ، جزوی تربیت یافتہ اور غیر تربیت یافتہ عملے کی حفاظت کے تمام ضروری انتظامات موجود رہیں بصورت دیگر لیبر ڈیپارٹمنٹ بھی پوری طرح با اختیار ہے۔ الیکٹریکل انسپیکٹوریٹ کا ادارہ برقی خطرات سے حفاظت اور برقی آگ سے بچاؤ کو یقینی بنانے کا ذمدار ہے۔
اگر یہ تمام ادارے رشوت سے پاک ہوں اور بھرپور توجہ کے ساتھ اپنی ذمداریاں پوری کریں تو شہر کی تمام عمارتیں اس قسم کے حادثات اور نقصانات سے محفوظ بنائی جا سکتی ہیں۔ انشورنس کمپنیز بھی عمارتوں کی انشورنس فراہم کرنے سے پہلے وہاں کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیتی ہیں اور ضروری اقدامات کے بعد ہی انشورنس دیتی ہیں لیکن شاپنگ مالز جہاں سینکڑوں دکانیں موجود ہوں، وہاں انشورنس کا تصور بھی محال ہے۔

سوال: موجودہ صورت حال کیا ہے؟ کیا ایسے مزید حادثات کا امکان موجود ہے؟ حل کیا ہے؟
جواب: اِس وقت شہر میں سینکڑوں ایسی عمارتیں موجود ہیں جہاں آگ سے حفاظت کا نا تو کوئی انتظام ہے، نا ہی کوئی تربیت یافتہ عملہ ہے۔ اداروں کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ گروسیف اپنی ماہرانہ خدمات فراہم کر سکتا ہے۔ سب سے پہلے ایک چیک لسٹ کا اجراء اور مناسب مدت میں ایسی تمام عمارتوں کی جانچ کی جانی چاہیے۔ جو عمارتیں نہایت خطرناک ہیں اُن کو عارضی طور پر سیل کر کے انتظامات مکمل کیے جانے چاہیں، اور جن عمارتوں میں درجہ بندی کے اعتبار سے خطرات کم ہیں ان کو ایک معینہ مدت تک انتظامات پورے کرنے کی مہلت دی جانی چاہیے جس کی مدت پوری ہونے پر فالو اپ آڈٹ ہو اور آڈٹ کامیاب ہونے کی صورت میں کام جاری رکھنے کا اجازت نامہ فراہم کیا جائے۔
مزید یہ کہ سندھ OSH کونسل اور کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کے ذریعے اس پورے عمل کو رشوت سے پاک رکھتے ہوئے کام مکمل کیا جاسکتا ہے۔
یاد رہے کہ ہر حادثے کے براہِ راست نقصانات ملکی معیشت پر بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں، سیفٹی ریسرچ کے مطابق کسی بھی حادثے سے جڑے بالواسطہ نقصانات اُس حادثے کے براہ راست نقصانات کے مقابلے میں 8سے 36گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ ہماری قوم اب مزید نقصانات کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ ملک قرضوں میں جکڑا ہے، مہنگائی اور بیروزگاری طرح طرح کے مسائل جنم دے رہی ہے ایسے میں اس قسم کے حادثات قوم کو ناقابل تلافی نقصانات سے دو چار کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
محتاط اندازے کے مُطابق گل پلازہ میں ہونے والے بِلاواسطہ نقصانات کی مالیت 100 ارب سے زائد ہے اُس حساب سے اس حادثے کا بالواسطہ نقصان 8سے 36کھرب روپے بنتا ہے، یعنی چوالیس(44) رافیل طیاروں کی تباہی کے برابر۔ اگر اب بھی ہوش کے ناخن نا لیے گئے تو وطنِ عزیز کو دیوالیہ ہونے سے کوئی نہیں روک پائے گا۔

قاضی جاوید گلزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انتظامات ہیں گل پلازہ میں فائر بریگیڈ کے انتظامات تربیت یافتہ ا گ بجھانے اداروں کے موجود ہیں سول ڈیفنس حادثے کے کے مطابق کا ادارہ فائر ٹرک سے حفاظت موجود ہو صورت حال فراہم کر ہوتے ہیں حفاظت کے ا گ لگنے نے والے کرتا ہے سکتا ہے سے بچاو کی صورت ہے سوال قسم کے والی ا کے لیے کے پاس

پڑھیں:

کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے

فائل فوٹو۔

جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے