پنجاب میں گڈ گورننس‘تھانہ کلچر کا پول ایک واقعے نے کھول دیا‘ حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260131-01-2
لاہور(نمائندہ جسارت)امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب میں ’’گڈ گورننس‘‘ اور ’’تھانہ کلچر‘‘ کا پول ایک واقعے نے کھول دیا۔ جبر کا نظام ملاحظہ فرمائیں کہ حادثے کو ’’فیک نیوز‘‘ قرار دیا گیا اور مظلوم شخص کو مجرم بنانے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جب تمام حربے ناکام ہوگئے اور معاملہ کھلا تو نمائشی عدالت لگائی گئی اور کچھ افسران کو برطرف کرنے کا شاہی فرمان جاری کردیا۔ لاہور میں ماں بیٹی کی سیوریج پائپ میں گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک اور دلخراش واقعے پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اظہار خیال کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آخر تھانے کو یہ جرأت اور اختیار کس نے دیا ہوا ہے کہ وہ ایک مظلوم شہری کو ٹارچر کرے؟ آخر پنجاب میں نچلی سطح تک بااختیار بلدیاتی نظام کیوں نہیں جہاں میونسپل سروسز کا ذمے دار عوام کو جوابدہ منتخب کونسلر یا یوسی چیئرمین ہوتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم کے مشیر نے یہ کہہ کر جان چھڑالی کہ گٹر پر ڈھکن لگانے کی ذمے دار وزیراعلیٰ نہیں بلکہ یونین کونسل ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس یونین کونسل کا منتخب چیئرمین کیوں نہیں؟ اختیارات کا مرکز و محور ایک خاندان کیوں ہے؟ پاکستان کو اداکاری کی نہیں نئے نظام کی ضرورت ہے، تمام اختیارات ایک خاندان کے ہاتھ میں رکھنے کا نظام اب بدلنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔