سانحہ گل پلازہ سے سول ڈیفنس کی کارکردگی بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260131-01-5
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سانحہ گل پلازہ کے بعد سول ڈیفنس کے دفتر کی حقیقت بے نقاب ہوگئی، آوارہ کتوں کی تعداد عملے سے زیادہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ گل پلازہ کے بعد سول ڈیفنس سندھ کی ناقص کارکردگی اور انتظامی بدحالی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ واقعے کے بعد سول ڈیفنس کے 2 افسران کو سب سے پہلے معطل کیا گیا، تاہم تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ صوبائی سول ڈیفنس کا مرکزی دفتر خود زبوں حالی کی تصویر بنا ہوا ہے‘کراچی میں واقع سول ڈیفنس سندھ کا دفتر اس وقت بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہا ہے۔ دفتر میں عملے کی شدید کمی ہے جبکہ آوارہ کتوں کی تعداد عملے سے بھی زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ دفتر کے باہر کچرا کنڈی جبکہ اندر جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر موجود ہیں ۔ سول ڈیفنس کی خستہ حال اور بوسیدہ عمارت کسی بھی وقت گرسکتی ہے‘ ڈائریکٹر سول ڈیفنس کے دفتر کو کچن اور اسٹور روم میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں حفاظتی آلات کچرے کی نذر ہو چکے ہیں۔ دفتر میں موجود ایک جونیئر کلرک نے انکشاف کیا کہ سول ڈیفنس میں 42 افراد پر مشتمل اسٹاف کی منظوری ہے، تاہم عملی طور پر صرف 9 افراد کام کر رہے تھے ‘ لوگوں کو لگانا حکومت کا کام ہے، ہمارا نہیں ہے۔مزید یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایڈیشنل کنٹرولر سول ڈیفنس ضلع جنوبی کے دفتر میں بیٹھنے کی جگہ تک موجود نہیں ہے۔ایک خاتون ایڈیشنل کنٹرولر کو دفتر کے بجائے باہر گراؤنڈ میں کرسی پر بٹھائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق جس روز گل پلازہ میں آگ لگی اس روز ایڈیشنل کنٹرولر اور حتیٰ کہ چپڑاسی تک دفتر میں موجود نہیں تھے۔سانحہ گل پلازہ کے بعد سامنے آنے والے یہ حقائق سول ڈیفنس جیسے اہم ادارے کی کارکردگی اور تیاریوں پر سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں، جس کا براہِ راست اثر شہریوں کی جان و مال کے تحفظ پر پڑتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ سول ڈیفنس دفتر میں کے بعد
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔