بھارت،شوہر کے مذاق میں بندریا کہنے پر بیوی کی خودکشی
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260131-08-8
لکھنؤ(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں شوہر کے مذاق میں بندریا کہنے پر حساس بیوی نے خودکشی کرلی۔ اترپردیش کے شہر لکھنؤ میں اندرا نگر تھانہ علاقے میں ایک خاتون نے خودکشی کر لی۔ خاندان میں ہنسی مذاق چل رہا تھا، جب اس کے شوہر نے اسے مذاق میں بندریا کہا۔ اس سے پریشان تنو سنگھ نے اپنی جان لے لی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ماڈل بننے کی شوقین تنو سنگھ اپنے شوہر راہول سنگھ کے ساتھ اندرا نگر میں رہتی تھیں۔ تنو کو ماڈلنگ کا شوق تھا اور وہ اپنی شکل و صورت کے بارے میں بہت حساس تھیں۔ تنو کی بہن انجلی نے بتایا کہ بدھ کی شام کو خاندان کے سبھی لوگ سیتا پور میں ایک رشتہ دار کے گھر سے خوشی خوشی گھر واپس آئے۔ گھر پہنچ کر سب ادھر ادھر بیٹھے ہنسی مذاق کر رہے تھے۔تنو نے خود کو ماڈل کی طرح تیار کررکھا تھاکہ مذاق کے دوران بہنوئی راہول نے تنو کو بندریا کہہ دیا۔ اس سے تنو کو اتنی تکلیف ہوئی کہ وہ فوراً غصے سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ گھر والوں کا خیال تھا کہ وہ تھوڑی دیر میں مان جائے گی، اس لیے کسی نے اسے روکنا مناسب نہیں سمجھا۔ تقریباً ایک گھنٹہ بعد، جب تنو کو کھانے کے لیے بلایا گیا اور کوئی جواب نہ ملا تو گھر والے چیک کرنے کے لیے کمرے میں گئے۔ تو تنو کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی۔انجلی نے وضاحت کی کہ تنو اپنے کیرئیر اور شکل کو لے کر بہت سنجیدہ تھی۔ اسی حساسیت کے باعث وہ اپنے شوہر کے مذاق کو برداشت نہ کرسکی اور یہ خودکشی کا قدم اٹھایا۔ انسپکٹر سنیل کمار تیواری نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں آپسی جھگڑے اور مذاق کی وجہ سے دل برداشتہ ہونے کا معاملہ ظاہر ہوتا ہے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش لواحقین کے حوالے کر دی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تنو کو
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔