شوہر حق مہر میں لکھی گئی چیزوں کی ادائیگی کا پابند ہے، چیف جسٹس
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) عدالت عظمیٰ میں جہیز اور حق مہر سے متعلق کیسز کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے اہم ریمارکس دے دیے۔چیف جسٹس نے قرار دیا کہ حق مہر میں جو چیزیں لکھی ہوں، شوہر ان کی ادائیگی کا پابند ہے، عورت کے ساتھ جب شادی کی جاتی ہے تو نکاح نامے کے تحت درج ادائیگی لازم ہوتی ہے۔درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کی۔سماعت کے دوران وکیلِ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ حق مہر میں 40 تولہ بہت زیادہ ہے اور شوہر 20 تولہ ادا کرنے کو تیار ہے، اس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ تھوڑا اور دے دیں تو معاملہ ٹھیک ہو جائے گا تاہم عدالت ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے جہیز اور حق مہر سے متعلق دائر مختلف درخواستیں خارج کر دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیف جسٹس
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔