سپریم کورٹ نے پولیس تھانوں میں ایس ایچ او کو بخدمت جناب لکھنے کے رائج طریقہ کار کو ممنوع قرار دے دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا، جس میں جوڈیشل لا کلرک محمد سبحان ملک کے نکتے پر عدالت نے واضح اور جامع ہدایات جاری کیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ اور قبلہ محترم جناب ڈی ایس پی صاحب

عدالت نے قرار دیا کہ پولیس اور شہری کے تعلق کی نئی تشریح ضروری ہے اور ریاستی رویے میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق ایس ایچ او عوام کا خادم ہے، عوام اس کے ماتحت یا نوکر نہیں۔ عدالت نے ہدایت دی کہ آئندہ صرف جناب ایس ایچ او لکھا جائے گا اور غلامانہ زبان کے استعمال کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ ایف آئی آر درج کرانے والا شہری اطلاع دہندہ کہلائے گا، شکایت کنندہ نہیں، جبکہ کمپلیننٹ کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایات تک محدود رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری افسران کو صاحب کہیں نہ سپریم کورٹ کو اعلیٰ عدالت، 2023 سپریم کورٹ میں کیا بدلا؟ 

سپریم کورٹ نے پولیس کارروائی میں فریادی کا لفظ استعمال کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی اور قرار دیا کہ فریادی کا لفظ رحم مانگنے کا تاثر دیتا ہے، جبکہ شہری اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے۔

عدالت نے ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے پولیس افسران کو سخت وارننگ جاری کی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایف آئی آر میں تاخیر پر پی پی سی 201 کے تحت مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے، کیونکہ تاخیر کی صورت میں شواہد ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news ایس ایچ او بخدمت پابندی تھانے سپریم کورٹ صاحب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایس ایچ او پابندی تھانے سپریم کورٹ سپریم کورٹ ایس ایچ او عدالت نے

پڑھیں:

کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم

پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی