نشے کی حالت میں گاڑی چلانے پر خوفناک حادثہ، بھارتی اداکار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
بھارتی اداکار مایور پٹیل کو نشے کی حالت میں گاڑی چلانے پر خوفناک حادثے کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے بنگلورو میں مبینہ طور پر نشے کی حالت میں گاڑی چلانے والے کنڑ اداکار مایور پٹیل کی فورچیونر گاڑی ضبط کرلی ہے۔
اداکار مایور پٹیل کو بنگلورو میں دیر رات ڈرنک اینڈ ڈرائیو کیس کے بعد پولیس نے حراست میں لے لیا، جس کے نتیجے میں متعدد گاڑیوں کا آپس میں تصادم ہوا۔
A late-night drink-and-drive incident involving Kannada actor Mayur Patel has been reported in Bengaluru, triggering immediate police action.
The accident occurred around 10 pm on Old Airport Road near the Commando Hospital signal in the city, where Mayur Patel, allegedly… pic.twitter.com/rdl4Ubvf59 — IndiaToday (@IndiaToday) January 29, 2026
منگل کی رات تقریباً 10 بجے یہ حادثہ اولڈ ایئرپورٹ روڈ پر کمانڈو اسپتال سگنل کے قریب پیش آیا، جہاں اداکار اپنی فورچیونر ایس یو وی چلا رہے تھے۔
انہوں نے ٹریفک سگنل پر کھڑی ایک گاڑی کو ٹکر ماری، جس کے باعث چین ری ایکشن ہوا اور مزید 4 گاڑیاں متاثر ہوئیں، جن میں 2 سوئفٹ ڈزائر اور ایک سرکاری گاڑی شامل تھیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹریفک پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور اداکار کا بریتھ الائزر ٹیسٹ کیا، جس کا نتیجہ مثبت آیا جس سے شراب نوشی کی تصدیق ہوئی۔
ایک پولیس اہلکار نے بھارتی میڈیا بتایا کہ اداکار نشے کی حالت میں گاڑی چلا رہا تھا اور اس کے باعث متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
حادثے کے بعد مبینہ طور پر مایور پٹیل نے متاثرہ گاڑیوں میں سے ایک کے مالک سے تلخ کلامی بھی کی، جس پر پولیس نے مداخلت کی۔
رپورٹ کے مطابق، پولیس نے فورچیونر گاڑی ضبط کر لی اور متاثرہ ڈرائیورز کی شکایات پر ہلاسورو ٹریفک پولیس اسٹیشن میں باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا۔
واضح رہے کہ مایور پٹیل پروڈکشن اور ڈائریکشن کے شعبے میں بھی کام کر چکے ہیں، جب کہ وہ گلوکار اور میوزک کمپوزر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نشے کی حالت میں گاڑی پولیس نے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔