Jasarat News:
2026-07-24@02:42:49 GMT

دفتر خارجہ کی وضاحت اور زمینی حقائق

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دفتر خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ پاکستان ابراہیم معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی عالمی استحکام فورس میں شمولیت اختیار کرے گا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا موقف تبدیل نہیں ہوا یہ ایک غلط فہمی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ غزہ امن بورڈ کا ابراہیم معاہدے یا کسی متوازی عمل سے کوئی تعلق ہے۔ امن بورڈ میں شمولیت وزارت خارجہ اور تمام متعلقہ اداروں کا اجتماعی فیصلہ ہے جو تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد کیا گیا، جب کہ پاکستان کا بنیادی مقصد بورڈ آف پیس میں شامل ہو کر غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم اور برقرار رکھنا، تعمیر نو میں مدد فراہم کرنا اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت پر مبنی منصفانہ اور دیر پا امن کو آگے بڑھانا ہے، 7 دیگر اہم مسلم ممالک، سعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطر بھی پاکستان کے ساتھ بورڈ آف پیس میں شامل ہوئے ہیں، پاکستان کی شمولیت کو 8 اسلامی ممالک کی اس مشترکہ کوشش کے تسلسل میں دیکھا جانا چاہیے، جس کا مقصد غزہ میں امن قائم کرنا اور فلسطینی مسئلے کا دیرپا حل تلاش کرنا ہے، بورڈ آف پیس کو ابراہام معاہدے سے جوڑنا غلط فہمی ہے جب کہ پاکستان نے اس بورڈ میں نیک نیتی کے تحت شمولیت اختیار کی۔ طاہر اندرابی نے غزہ کے عوام کی مشکلات، اموات اور تباہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ آف پیس غزہ اور فلسطینی مسئلہ کے لیے امید کی ایک کرن ہے، یہ بورڈ اقوام متحدہ کا متبادل نہیں ہے بلکہ یہ ایک مخصوص مینڈیٹ کے تحت قائم کیا گیا، جسے سلامتی کونسل کی قرارداد نے اختیار دیا، ہم سمجھتے ہیں کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کے نظام کو کمزور نہیں بلکہ اس کی تکمیل کرتا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کی یہ وضاحت مثبت جانب ایک پیش رفت ہے یہ پاکستان کے عوام کے دل کی آواز اور ان کے لیے باعث اطمینان ہے کہ حکومت اپنے عوام کے جذبات کا احترام کرتی ہے، اسرائیل کے ناجائز ریاست ہونے اور اسے کسی صورت تسلیم نہ کیے جانے کے معاملہ پر پوری قوم میں ہمیشہ اتفاق اور اتحاد پایا گیا ہے بلکہ اس ضمن میں مصور پاکستان علامہ اقبال اور بانی پاکستان بابائے قوم محمد علی جناح نے اسرائیل کے فلسطین کی سرزمین پر غاصبانہ قبضہ کے ذریعے وجود میں لائے جانے سے قبل ہی اسے سراسر ناجائز ریاست قرار دے کر اسے کسی صورت تسلیم نہ کرنے کا اعلان کر دیا تھا، اسی موقف کو قیام پاکستان سے آج تک ملت اسلامیہ پاکستان نے حرزجان بنا رکھا ہے اور جب کبھی کسی حکمران نے اس مسلمہ قومی موقف سے سرمو انحراف کی کوشش کی ہے یا اس قسم کا عندیہ حکومت کے کارپردازان کی طرف سے دیا گیا ہے تو پوری قوم کی جانب سے اس پر شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے جس کے بعد ایسے عزائم رکھنے والے حکمرانوں کو اپنے ارادوں سے توبہ کرنا پڑی ہے یہی زمینی حقائق اب بھی موجود ہیں جن کے پیش نظر دفتر خارجہ کے ترجمان کو واضح الفاظ میں اعلان کرنا پڑا ہے کہ پاکستان نہ تو ابراہیم معاہدہ کا حصہ بنے گا اور نہ ہی عالمی استحکام کے نام پر تشکیل دی جانے والی کسی فورس میں شمولیت اختیار کی جائے گی تاہم بہتر ہو گا کہ حکمران غزہ امن بورڈ سے متعلق اپنے فیصلے پر بھی نظر ثانی کریں کیونکہ پاکستانی حکام اگرچہ وضاحتیں کر رہے ہیں کہ اس امن بورڈ کا اسرائیل کو تسلیم کرنے سے کوئی تعلق نہیں مگر یہ حقیقت تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ امن بورڈ میں اسرائیل اور اس کی فوج بھی شامل ہے اور بورڈ کی کسی کارروائی کے دوران یہ دونوں فوجیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں مل کر شریک ہوں گی جب کہ صدر ٹرمپ سے متعلق یہ امر کوئی راز نہیں کہ انہوں نے غزہ میں مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی میں اسرائیل کی کھل کر حمایت اور سرپرستی کی، اس ظلم کے لیے اسرائیل کو ایک سے بڑھ کر ایک جدید اور ہلاکت خیز ہتھیار فراہم کیا اور بھر پور اقتصادی امداد مہیا کی، یہیں بس نہیں اگر دنیا کے کسی ملک نے یہ ظلم و جبر رکوانے کی خاطر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرار داد منظور کروانے کی کوشش کی تو صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکا نے ایسی ہر قرار داد کو ویٹو کر دیا۔ آج جنگیں رکوانے کے دعویدار اور صبح شام امن کے نوبل انعام کے لیے واویلا کرنے والے صدر ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کی قرار دادوں کو ایک دوبار نہیں، پورے آٹھ بار ویٹو کے ہتھیار کے ذریعے منظور ہونے سے روکا۔ ایسے شخص سے آخر یہ امید کیسے رکھی جا سکتی ہے کہ وہ غزہ اور فلسطین کے مسلمانوں کی ہمدردی اور خیر خواہی میں کوئی قدم اٹھائے گا۔ صدر ٹرمپ اپنے ماضی کے کردار کے مطابق اگر غزہ کے مسلمانوں کے خلاف یا ان کے مفاد کے برعکس اور اسرائیل کے حق میں کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو ’’امن بورڈ‘‘ معاہدہ کے دستخط کنندگان کی حیثیت سے مسلمان ممالک کیونکر اس کی حکم عدولی کریں گے جب کہ ماضی میں تو ایسا کوئی معاہدہ بھی نہیں تھا تو یہ تمام مسلم ممالک کوئی کارروائی غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں کرنے میں قطعی ناکام رہے تھے اور یہ سب مل کر ’’ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم‘‘ کی تصویر بنے ہوئے تھے گویا علامہ اقبالؒ کے الفاظ میں صورت حال یوں تھی کہ:۔

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

دفتر خارجہ کے ترجمان نے اگرچہ اپنی بریفنگ میں ’’امن بورڈ‘‘ میں پاکستان کی شمولیت کے مقاصد کی ایک خوبصورت تصویر اپنے الفاظ میں یوں کھینچی ہے کہ ’’پاکستان کا بنیادی مقصد ’امن بورڈ‘ میں شامل ہو کر غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم اور برقرار رکھنا، تعمیر نو میں مدد فراہم کرنا اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت پر مبنی منصفانہ اور دیرپا امن کو آگے بڑھانا ہے‘‘۔ مگر سوال یہ ہے کہ جس بورڈ میں اسرائیل، اس کا سرپرست امریکا اور ان کے حواری دیگر مغربی ممالک شامل ہوں گے، کیا ان کی موجودگی میں دفتر خارجہ کے ترجمان کے بیان کردہ مقاصد پورے ہو سکیں گے؟ کیا امریکا اور اسرائیل کے فوجی انہیں ان مقاصد کی تکمیل کا موقع فراہم کریں گے؟ کہیں ایسا تو نہیں ہو گا کہ پاکستان اور دیگر مسلمان ممالک اسرائیل اور امریکا کے پس پردہ مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ بننے پر مجبور پائے جائیں۔ کیونکہ اس وقت بھی جنگ بندی معاہدہ کے باوجود اسرائیل اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے اور اس کا ہاتھ روکنا تو دور کی بات ہے، اس کی زبانی مذمت تک کرنے کی توفیق مسلمان ممالک سمیت امن کی پرچارک دنیا میں سے کسی کو نہیں ہو رہی اور پھر ایک انتہائی اہم اور نازک سوال یہ بھی ہے کہ اگر ’امن بورڈ‘ کی کاررروائیوں کا حصہ بننے والے مسلمان ممالک خصوصاً پاکستان کے فوجی جوانوں کا اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی حالت زار دیکھ کر ان کے لیے جذبہ ہمدردی جاگ گیا اور امن بورڈ کے رکن ممالک کے فوجیوں کے مابین باہمی تصادم کی صورت پیدا ہو گئی تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے؟؟

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دفتر خارجہ کے ترجمان مسلمان ممالک بورڈ ا ف پیس اور فلسطینی کہ پاکستان اسرائیل کے الفاظ میں عوام کے شامل ہو کے لیے اور اس

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم